لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) نے نیٹ میٹرنگ کے تحت سولر سسٹم نصب کرنے والے صارفین کے لیے نئی پالیسی متعارف کروا دی ہے، جس کے تحت 14 کلو واٹ سے زائد صلاحیت کے سولر سسٹمز پر ذاتی ٹرانسفارمر لگانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
لیسکو حکام کے مطابق نئی پالیسی کا مقصد ہائی لوڈ سولر سسٹمز کو بہتر انداز میں ریگولیٹ کرنا اور بجلی کے ترسیلی نظام پر بڑھتے دباؤ کو کم کرنا ہے۔
کمپنی کی جانب سے جاری ہدایات کے مطابق وہ صارفین جو 14 کلو واٹ تک کا سولر سسٹم لگانا چاہتے ہیں، ان کے لیے پرانا طریقہ کار ہی برقرار رہے گا اور وہ معمول کے مطابق نیٹ میٹرنگ حاصل کر سکیں گے۔
تاہم 14 کلو واٹ سے زائد صلاحیت کے سولر سسٹمز نصب کرنے والے صارفین کو اب اپنا الگ ٹرانسفارمر خرید کر نصب کرنا ہوگا۔ لیسکو نے واضح کیا ہے کہ ذاتی ٹرانسفارمر کے بغیر ایسے صارفین کو نیٹ میٹرنگ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
نئی پالیسی کے تحت لیسکو اور صارف کے درمیان پانچ سالہ معاہدہ بھی کیا جائے گا، جس کے مطابق صارف کو مقررہ مدت تک بجلی پیدا کرنے اور اسے قومی گرڈ میں شامل کرنے کی اجازت ہوگی۔
لیسکو نے سولر نیٹ میٹرنگ کے پورے عمل کو ڈیجیٹل بنانے کا بھی اعلان کیا ہے۔ حکام کے مطابق اب درخواستیں صرف مجاز کمپنیوں کے ذریعے مکمل طور پر آن لائن جمع کروائی جا سکیں گی تاکہ شفافیت اور آسانی کو یقینی بنایا جا سکے۔
درخواست کی منظوری کے بعد نیپرا کی جانب سے جنریشن لائسنس جاری کیا جائے گا جبکہ آخری مرحلے میں لیسکو متعلقہ سولر سسٹم کو قومی گرڈ کے ساتھ منسلک کرے گا۔
لیسکو حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف بڑے پیمانے پر بجلی پیدا کرنے والے صارفین کے لیے لائسنسنگ کا نظام بہتر ہوگا بلکہ تکنیکی نگرانی اور بجلی کے نظام کا استحکام بھی مزید مؤثر بنایا جا سکے گا۔
دوسری جانب بعض صارفین نے نئی شرط پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ذاتی ٹرانسفارمر کی شرط سے سولر سسٹم کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوگا، جس سے متوسط طبقے کے لیے بڑے سولر منصوبے لگانا مشکل ہو سکتا ہے۔
لیسکو کی نئی سولر پالیسی، 14 کلو واٹ سے زائد سسٹم کیلئے ذاتی ٹرانسفارمر لازمی
