ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ مذاکرات کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ایران ہتھیار ڈال دے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ ایران ہمیشہ وقار، خودمختاری اور قومی حقوق کے تحفظ کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہوتا ہے اور کسی بھی صورت عوام اور ملک کے قانونی حقوق سے پیچھے نہیں ہٹے گا،ایرانی قیادت پوری طاقت اور عزم کے ساتھ آخری دم تک عوام کی خدمت جاری رکھے گی جبکہ ایران کے مفادات اور قومی وقار کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے معاملے پر ایک بار پھر سخت اور جارحانہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہوا تو انہوں نے فوج کو ایک سیکنڈ کے نوٹس پر حملے کے لیے تیار رہنے کا حکم دے رکھا ہے، تاہم اس وقت ایران کے ساتھ انتہائی سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں اور ڈیل ہونے کے امکانات روشن دکھائی دے رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مشرق وسطیٰ کے اہم رہنماؤں کی جانب سے ایران پر مجوزہ حملہ روکنے کی درخواست کی گئی تھی، جس کے بعد انہوں نے امریکی فوج کو کارروائی مؤخر کرنے کا حکم دیا، قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی قیادت نے اپیل کی کہ ایران کو سفارتی راستہ دینے کی کوشش کی جائے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا ایران پر حملے کے لیے مکمل طور پر تیار تھا اور کارروائی کل بھی ہوسکتی تھی، تاہم انہیں محسوس ہوتا ہے کہ تہران کے ساتھ ایسا معاہدہ طے پانے کا اچھا موقع موجود ہے جو نہ صرف امریکا بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے لیے قابل قبول ہوگا ممکنہ معاہدے میں ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ انہوں نے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ، جنرل ڈین کین اور عسکری قیادت کو ہدایت دی ہے کہ فی الحال حملہ نہ کیا جائے۔ ان کے بقول اگر ایسی ڈیل طے پا جاتی ہے جس کے تحت ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرسکے تو امریکا مطمئن ہوسکتا ہے ایران کی اعلیٰ قیادت ختم ہوچکی ہے اور اب وہاں تیسرے درجے کی قیادت باقی رہ گئی ہے، آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول امریکا کے پاس ہے۔
ٹرمپ نے امریکی ڈیموکریٹک پارٹی اور امریکی میڈیا کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا کہا کہ اگر ایران کی پوری فوج ہتھیار ڈال دے، تمام فوجی سرنڈر کردیں اور ایرانی قیادت باضابطہ طور پر شکست تسلیم کرتے ہوئے سرنڈر دستاویزات پر دستخط بھی کردے، تب بھی امریکی میڈیا ایران کی شاندار فتح کی ہی سرخیاں لگا ئے گا صدر ٹرمپ نے خاص طور پر دی وال اسٹریٹ جرنل، دی نیویارک ٹائمز اور سی این این کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں جعلی میڈیا قرار دیا،کہا کہ امریکی میڈیا اور ڈیموکریٹس مکمل طور پر حواس باختہ ہوچکے ہیں اور ہر معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کررہے ہیں۔
