Baaghi TV

گوتم اڈانی کو بڑا ریلیف،امریکی حکومت ٹرمپ کے حکم پر تمام مقدمات ختم کرنے پر متفق

adani

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بھارتی ارب پتی کاروباری شخصیت گوتم اڈانی کے خلاف دائر فوجداری دھوکہ دہی کے مقدمات ختم کرنے کی کارروائی شروع کردی، جنہوں نے امریکی معیشت میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کر رکھا ہے،جبکہ ان کی ایک کمپنی سے متعلق ایران پر عائد پابندیوں کی مبینہ خلاف ورزیوں کا معاملہ بھی طے کرلیا گیا ہےیہ ٹرمپ کے محکمہ انصاف کی جانب سے ان ہائی پروفائل فوجداری مقدمات کو ترک کرنے کی تازہ ترین مثال ہے جو ان کے ڈیموکریٹ پیشرو جو بائیڈن کے دور میں وفاقی پراسیکیوٹرز نے شروع کیے تھے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہونے والے گوتم اڈانی کے خلاف زیر التوا مقدمات کے خاتمے کا یہ فیصلہ پیر کے روز کیا گیا جو ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ان کے وکیل، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ذاتی وکیل بھی ہیں، نے گزشتہ ماہ بتایا تھا کہ اڈانی امریکا میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں، تاہم مقدمات جاری رہنے کی وجہ سے وہ ایسا نہیں کر پا رہے تھے۔

ٹرمپ نے آخری لمحے میں ایران پر حملہ کیوں روکا؟اسرائیلی صحافی کا اہم انکشاف

فوربز میگزین کے مطابق 63 سالہ گوتم اڈانی کی مجموعی دولت کا تخمینہ 82 ارب ڈالر لگایا گیا ہے جو انہیں دنیا کے امیر ترین افراد میں سے ایک بناتا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق گوتم اڈانی پر الزام تھا کہ انہوں نے بھارتی سرکاری حکام کو 26 کروڑ 50 لاکھ ڈالر رشوت دینے پر رضامندی ظاہر کی تھی تاکہ اڈانی گروپ کی ذیلی کمپنی اڈانی گرین انرجی کو بھارت کے سب سے بڑے سولر پاور پلانٹ کی تعمیر کی منظوری مل سکے۔

استغاثہ کا مؤقف تھا کہ بعد ازاں امریکی سرمایہ کاروں کو کمپنی کی انسداد بدعنوانی پالیسیوں کے حوالے سے گمراہ کن اور تسلی بخش معلومات فراہم کی گئیں،

نومبر 2024 میں، بروکلی کے وفاقی پراسیکیوٹرز نے اڈانی پر ایک مبینہ اسکیم کے تحت فردِ جرم عائد کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے بھارتی سرکار ی حکام کو تقریباً 265 ملین ڈالر رشوت دینے پر اتفاق کیا، تاکہ ان کی کمپنی کو بھارت کا سب سے بڑا سولر پاور پلانٹ تیار کرنے کی منظوری مل سکے، اڈانی اور ان کے مبینہ ساتھیوں نے قرض دہندگان اور سرمایہ کاروں سے اپنی کرپشن چھپا کر 3 ارب ڈالر سے زائد کے قرضے اور بانڈز حاصل کیے اڈانی گروپ نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

اسرائیل میں فلسطینیوں کیلئے خصوصی سزائے موت کا قانون نافذ

دوسری جانب امریکی محکمہ خزانہ نے پیر کے روز بتایا کہ اڈانی گروپ کی کمپنی ادانی انٹرپرائزز نے ایران پر عائد پابندیوں کی مبینہ خلاف ورزیوں کے تصفیے کے لیے 27 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ادا کرنے پر اتفاق کرلیا ہے الزام تھا کہ اڈانی انٹرپرائزز نے دبئی میں قائم ایک تاجر سے مائع پیٹرولیم گیس (LPG) کی کھیپیں خریدیں، جنہیں عمانی اور عراقی گیس ظاہر کیا گیا، لیکن وہ دراصل ایران سے آئی تھیں، اڈانی انٹرپرائزز نے بھارت میں ایل پی جی کی درآمد بھی روک دی ہے اور حکومتی ہدایات پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے ہیڈ آف کمپلائنس کا عہدہ بھی قائم کردیا ہے-

عدالتی ریکارڈ کے مطابق گوتم اڈانی کو ایس ای سی کے ایک متعلقہ سول فراڈ کیس کا بھی سامنا تھا، جسے سیکیورٹیز ریگولیٹر نے جمعرات کو عدالتی منظوری سے مشروط کرتے ہوئے طے کر لیا تھا گوتم اڈانی کے بھتیجے ساگر اڈانی کو بھی ایس ای سی کے سول کلیمز کا سامنا تھا۔

ریکارڈ کے مطابق اڈانی اور ان کے بھتیجے 18 ملین ڈالر کے سول جرمانے ادا کریں گے، اگرچہ دونوں میں سے کوئی بھی کسی غلط کام کا اعتراف یا تردید نہیں کرے گا۔ اڈانی گرین انرجی نے ایک بیان میں کہا کہ دونوں افراد اور ایس ای سی نے نیویارک کی ایک عدالت میں حتمی فیصلے کے اندراج کے لیے درخواست دائر کر دی ہے، جس کا اب انتظار کیا جا رہا ہے۔

ایران کا ٹرمپ اور نیتن یاہو کو قتل کرنے پر 5 کروڑ یورو انعام کا منصوبہ

گوتم اڈانی کے وکلاء نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ ان کے موکلین اس بات پر اختلاف رکھتے ہیں کہ ایس ای سی کی جانب سے مبینہ رشوت ستانی کی اسکیم کی حمایت میں کوئی معتبر ثبوت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانڈز کی پیشکش میں اڈانی کی عدم شمولیت اور دھوکہ دہی کی نیت یا غفلت کی عدم موجودگی کیس کی برخاستگی کی حمایت کرتی ہے۔ انہوں نے ایس ای سی کے دعوؤں کو غیر قانونی طور پر ماورائے علاقہ بھی قرار دیا، جس سے مراد یہ ہے کہ اڈانی اور تمام مبینہ غلط طرز عمل بھارت میں تھا اور وہ بانڈز کبھی بھی امریکی ایکسچینج پر ٹریڈ نہیں ہوئے تھے۔

پاکستان سمیت 10 ممالک کی گلوبل صمود فوٹیلا پر اسرائیلی حملے کی مذمت

More posts