تہران پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ صحافیوں کا روپ دھار کر حساس معلومات اکٹھی کرنے والے دو مبینہ جاسوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے-
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے کہا ہے کہ تہران پولیس نے دارالحکومت کے مغربی اور شمالی علاقوں میں کارروائی کرتے ہوئے دو ایسے افراد کو گرفتار کیا ہے جو مبینہ طور پر صحافیوں کے بھیس میں جاسوسی کر رہے تھے ان افراد پر الزام ہے کہ وہ حساس فوجی اور انٹیلی جنس مراکز سے متعلق خفیہ معلومات اکٹھی کر کے ایران مخالف نیٹ ورکس کو منتقل کر رہے تھے۔
تسنیم کے مطابق تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ گرفتار افراد نے بیرونِ ملک رابطے کے لیے سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے ذریعے روابط قائم کیے تھے، کاررو ا ئی کے دوران اسٹارلنک کا ایک ریسیور بھی برآمد کر کے قبضے میں لے لیا گیا ان افراد کے دیگر ساتھیوں اور ممکنہ معاون نیٹ ورکس کی شناخت کے لیے تکنیکی اور انٹیلی جنس بنیادوں پر تحقیقات جاری ہیں جبکہ معاملے کی مزید تفتیش بھی کی جا رہی ہے۔
تسنیم کی ایک اور رپورٹ کے مطابق ایرانی پولیس نے 13 ہزار ڈالر کی رشوت مسترد کرتے ہوئے دماوند میں 3 سٹار لنک ڈیوائسز ضبط کر لیں یہ علاقہ ایران کے دارالحکومت تہران سے تقریباً 66 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے دماوند میں پولیس نے انٹیلی جینس معلومات پر ایک رہائشی عمارت پر چھاپہ مارا اور تین غیر قانونی اسٹار لنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ ڈیوائسز برآمد کرلیں اس موقع پر افسران کو 13 ہزار ڈالرز کی رشوت کی پیشکش بھی گئی تاہم افسران نے اسے مسترد کردیا۔
