ایران کی وزارت خارجہ نے جرمنی کے چانسلر کی جانب سے متحدہ عرب امارات کے جوہری پلانٹ کے قریب حملے میں ایران کے مبینہ کردار کے الزام کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جرمن زبان میں جاری بیان میں جرمن چانسلر فریڈرِش میرٹس پر “دوغلے پن” کا الزام عائد کیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کو نہ صرف نظر انداز کیا جاتا ہے بلکہ ان کا جواز بھی پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ وہ تنصیبات عالمی ایجنسی کی نگرانی میں محفوظ قرار دی گئی تھیں۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ جس واقعے کو انہوں نے “فالس فلیگ آپریشن” قرار دیا، اس کی ذمہ داری خود متحدہ عرب امارات نے بھی ایران پر عائد نہیں کی، لیکن اس کے باوجود مغربی رہنما اچانک بین الاقوامی قانون اور علاقائی سلامتی کی باتیں کرنے لگے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر جوہری تنصیبات پر حملے واقعی خطے کیلئے خطرہ ہیں تو یہ اصول سب ممالک پر یکساں لاگو ہونا چاہیے، نہ کہ صرف سیاسی مفادات کے مطابق۔
دوسری جانب جرمن چانسلر فریڈرِش میرٹس نے ایک روز قبل ایران کی جانب سے امارات اور دیگر ممالک پر مبینہ فضائی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ جوہری تنصیبات پر حملہ پورے خطے کی سلامتی کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات نے اتوار کو اعلان کیا تھا کہ ابوظہبی کے قریب براکہ جوہری پلانٹ کے باہر ڈرون حملے کے نتیجے میں بجلی کے جنریٹر میں آگ لگ گئی تھی۔
متحدہ عرب امارات کے نیوکلیئر پلانٹ پر حملہ ’فالس فلیگ آپریشن‘ تھا: ایران کا دعویٰ
