تحریک انصاف کے دورحکومت کے وزیر، عمران خان کے قریبی ساتھی، پاکستان کی عدالتوں سے مفرور، شہباز گل پاکستان دشمنی میں ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر حدیں پار کر گئے
بیرون ملک بیٹھ کر ریاست مخالف ایجنڈے کی ترویج میں شہباز گل صف اول میں ہیں، جس طرح بھارت پاکستان کے خلاف پروپگنڈہ کرتا ہے شہباز گل اس سے بھی دو ہاتھ آگے نکل جاتے ہیں،شہباز گل سے اور کیا توقع کی جا سکتی ہے، جو بغیر حقائق کی تصدیق کیے بھارتی بیانیےکو پھیلاتے ہیں؟ بھارتی دعوؤں کو بھارتی میڈیا کے علاوہ کوئی اہمیت نہیں دیتا اور شہباز گل نے جانتے بوجھتے ہوئے برطانوی اخبار، گارڈین، کہ حوالے سے یہ خبر چلا دی کہ حمزہ برھان کو بھارت کی خفیہ ایجنسیوں نے پاکستان میں آ کر قتل کیا،
شہباز گل بھولُ گیا کہ یہ خبر بھارتی آخبار سنڈے گارڈین کی ہے۔ برطانوی اخبار گارڈین کی نہیں۔وہ یہ بتانا بھی بھول گئے کہ شہید ہونے والے حمزہ احمد ڈار تھے، حمزہ برھان نہیں۔ وہ یہ بتانا بھی بھول گیا کہ حمزہ کا قاتل ہماری پولیس کی حراست میں ہے اور اس سے تفتیش جاری ہے،وہ یہ بتانا بھی بھول گئے کہ کوئی بھی قاتل جرمُ کے بعد ہماری سیکورٹی ایجنسیوں سے زیادہ دیر بچ نہیں سکا-ماضی میں جو بھی واقعات ہوئے، چاہے کوئی بھی جرم ہو، پولیس نے 99% مجرموں کی شناخت کر کے ان کو قانون کے کٹہرے میں لایا ہے۔شہباز گل بھولے نہیں ہیں۔ انہیں ڈالرز اور ویوز کی چاہت نے پاکستان سے محبت بھلا دی ہے۔ شاید اسی لیے شہید کہتے ہوئے انکی زبان لڑکھڑاتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ شہباز گل نے بھارتی بیانیہ چلا کر کتنا کما لیا ؟؟ یہ انکے اکاونٹ پر موجود بھارتی کمنٹس سے ظاہر ہے ،
تہمت لگا کے ماں پہ جو دشمن سے داد لے
ایسے سخن فروش کو مر جانا چاہئے
