Baaghi TV


اے آئی سے نوکریوں کا خاتمہ توقع سے کم ہوا

‎اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سیم آلٹمین نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ترقی کے باوجود دنیا کو “نوکریوں کی تباہی” جیسے بڑے بحران کا سامنا نہیں ہوا۔
‎غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق سیم آلٹمین نے آسٹریلیا کے کامن ویلتھ بینک کی سڈنی میں منعقدہ کانفرنس سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ انہیں ابتدا میں خدشہ تھا کہ اے آئی دنیا بھر میں وائٹ کالر ملازمتوں پر بہت بڑا اثر ڈالے گی۔
‎انہوں نے کہا کہ جب اوپن اے آئی نے 2022 میں چیٹ جی پی ٹی متعارف کرایا تو کمپنی کی تکنیکی پیش گوئیاں کافی حد تک درست ثابت ہوئیں، لیکن سماجی اور معاشی اثرات کے بارے میں اندازے مکمل طور پر درست نہیں نکلے۔
‎سیم آلٹمین کا کہنا تھا کہ انہیں توقع تھی کہ ابتدائی سطح کی دفتری اور وائٹ کالر نوکریاں اب تک بڑی تعداد میں ختم ہو چکی ہوں گی، مگر ایسا نہیں ہوا۔
‎انہوں نے کہا کہ “میں خوش ہوں کہ میری پیش گوئی غلط ثابت ہوئی، کیونکہ مجھے لگتا تھا کہ ملازمتوں پر کہیں زیادہ منفی اثر پڑے گا۔”
‎اوپن اے آئی کے سربراہ نے کہا کہ اب وہ بہتر انداز میں سمجھتے ہیں کہ ایسا کیوں نہیں ہوا اور یہ صورتحال ان کیلئے اطمینان کا باعث ہے۔
‎انہوں نے مزید کہا کہ بعض لوگ ان سے کہتے ہیں کہ اگر یہ خدشات درست ثابت نہیں ہوئے تو دنیا میں خوف اور بے یقینی کم پھیلائی جا سکتی تھی، تاہم اس وقت انہیں یہ خطرہ حقیقی محسوس ہوتا تھا۔
‎سیم آلٹمین نے خبردار کیا کہ اگرچہ فوری طور پر بڑے پیمانے پر نوکریاں ختم نہیں ہوئیں، لیکن مستقبل میں اے آئی کے اثرات کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
‎ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت نے کئی شعبوں میں کام کے انداز کو ضرور تبدیل کیا ہے، تاہم نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ نئی مہارتوں اور روزگار کے مواقع بھی سامنے آ رہے ہیں۔

More posts