ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے!!
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا!!
عظیم انسان روز روز پیدا نہیں ہوتے؛ ایسے افراد کے لیے تاریخ کو مدتوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ محسنِ پاکستان، ڈاکٹر عبد القدیر خان بھی انہی عظیم شخصیات میں سے ایک تھے جنہوں نے اپنی بے مثال ذہانت، محنت اور حب الوطنی سے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا۔
آپ ہندوستان کے شہر بھوپال میں پیدا ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد 1947ء میں اپنے خاندان کے ساتھ ہجرت کر کے پاکستان آئے اور یہاں نئی زندگی کا آغاز کیا۔ ابتدائی تعلیم کے بعد آپ نے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے یورپ کا رخ کیا جہاں آپ نے فزکس کے میدان میں اپنی علمی قابلیت کا لوہا منوایا۔ بعد ازاں آپ نے یورپ میں ہی ملازمت شروع کر دی جہاں جدید سائنسی علوم خصوصاً ایٹمی ٹیکنالوجی کے میدان میں مہارت حاصل کی۔جب بھارت نے ایٹمی تجربات کیے تو آپ یورپ ہی میں مقیم تھے، مگر وطنِ عزیز کی سلامتی آپ کے دل کے نہایت قریب تھی۔ آپ نے فوراً پاکستان واپس آنے کا فیصلہ کیا تاکہ ملک کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنایا جا سکے۔ حکومتِ پاکستان نے آپ کی صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر ممکن وسائل فراہم کیے۔ آپ کی شبانہ روز محنت، عزمِ صمیم اور انتھک جدوجہد کے نتیجے میں پاکستان نے مختصر عرصے میں ایٹمی صلاحیت حاصل کر لی۔
بالآخر 28 مئی 1998ء کو چاغی کے مقام پر کامیاب ایٹمی دھماکے کیے گئے، جس کے ساتھ ہی پاکستان دنیا کی ایٹمی طاقتوں میں شامل ہو گیا۔ یہ دن پاکستان کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا گیا اور اسے یومِ تکبیر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر عبد القدیر خان نہ صرف ایک عظیم سائنس دان تھے بلکہ ایک سچے محبِ وطن بھی تھے۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ خلوصِ نیت، محنت اور عزم کے ساتھ کوئی بھی مشکل ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔ آج بھی قوم ان کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور انہیں ہمیشہ فخر و احترام کے ساتھ یاد کرتی رہے گی۔
