ڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمر نے حالیہ وائرل انمول عرف پنکی کیس پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے معاشرے میں موجود دہرے معیار، اشرافیہ کے کردار اور سماجی منافقت پر کھل کر تنقید کی ہے۔
ایک نجی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خلیل الرحمان قمر نے طنزیہ انداز اپناتے ہوئے کہا کہ “جب انمول پنکی جیسے کام کیے جائیں گے تو رنگ بھی پنک ہی ہوں گے، ابھی کئی لوگوں کے رنگ پنک ہونے والے ہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ اگر معاشرے کے طاقتور اور بااثر طبقات کی خفیہ سرگرمیوں اور برائیوں کو بے نقاب کر دیا جائے تو لوگ حیران رہ جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ “اگر ہم ان بڑے لوگوں کی برائیوں کا چٹھہ کھول دیں تو خدا کی قسم ہمارے منہ سے چیخیں نکل جائیں گی۔” خلیل الرحمان قمر کے مطابق کئی معاملات ایسے ہوتے ہیں جو مکمل طور پر عوام کے سامنے نہیں آتے کیونکہ اکثر فیصلے بند کمروں میں ہی طے کر لیے جاتے ہیں۔
ڈرامہ نگار نے منشیات کے استعمال کے موضوع پر بھی گفتگو کی اور کہا کہ یہ ایک نہایت مہنگا نشہ ہے جس تک عام آدمی کی رسائی ممکن نہیں، اسی لیے ایسے معاملات میں اکثر بااثر اور صاحبِ حیثیت افراد کے نام سامنے آتے ہیں۔گفتگو کے دوران انہوں نے ماڈل ایان علی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ معاشرہ طاقتور شخصیات کے معاملات پر مختلف ردِعمل دیتا ہے، جبکہ عام افراد کے لیے الگ پیمانے اختیار کیے جاتے ہیں۔خلیل الرحمان قمر نے معاشرتی رویوں اور معاشی مشکلات پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ “ہم دن بھر حب الوطنی کی باتیں کرتے ہیں اور رات کو دوست سے کہتے ہیں کہ پیٹرول بہت مہنگا ہو گیا ہے، ذرا ڈلوا دو۔”
