افغان طالبان رجیم کےہاتھوں انصاف کا قتل،عدالتیں یرغمال، ملک میں بندوق کا قانون نافذہے
افغانستان پر قابض طالبان رجیم نے آئین،عدالت اور انسانی حقوق کو روند کر ملک پر بدترین آمریت مسلط کردی،افغان طالبان رجیم کی طرف سے اسلام کی گمراہ کن تشریح اور من مانے فیصلوں پر دنیا بھر سے کڑی تنقید ہورہی ہے،افغان جریدے اٹلس پریس کے مطابق افغانستان کے سابق اٹارنی جنرل فرید حامدی نے کہا ہے کہ طالبان رجیم نے عدالتی اور قانونی اداروں میں اختیارات کی علیحدگی ختم کرکے قانونی نظام کے بنیادی تصور کو ہی تباہ کردیا ہے،افغان طالبان رجیم کی نام نہاد عدالتیں خود ہی فوجداری مقدمات کی تحقیقات کرکے فیصلے سناتی ہیں، طالبان نے اقتدار پر قبضے کے بعد تمام خواتین پراسیکیورٹرز کو برطرف کردیا اور اب انہیں دھمکیوں کا بھی سامنا ہے، افغان طالبان رجیم میں قید خواتین کی تعداد 435 فیصد بڑھ کر 1,825 تک پہنچ گئی ہے،طالبان کے اقتدار کے بعد کم از کم 57 پراسیکیورٹرز یا ان کے اہلِ خانہ قتل کیے جا چکے ہیں،
ماہرین کے مطابق افغان طالبان رجیم نے قانون، انصاف اور انسانی حقوق کا گلا گھونٹ کرعدالتی نظام کو ذاتی اقتدار کا ہتھیار بنالیا ہے،افغان طالبان رجیم کے ظالمانہ فیصلوں نے افغانستان کو قانون کی حکمرانی کے بجائے خوف، جبر اور انتقام پر قائم ریاست میں تبدیل کردیا ہے
