میجر (ر) ہارون رشید،
دفاعی و اسٹریٹیجک تجزیہ کار، جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، دفاعی جدیدکاری اور بازدارانہ حکمتِ عملی کے ماہر، نیز ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک امینیٹیز اینڈ ڈیولپمنٹ کے رکن
بحیرۂ عرب کا تزویراتی ماحول تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ بحرِ ہند کے خطے (IOR) میں بڑھتی ہوئی بحری رقابت، بھارت کی بلیو واٹر نیوی کی توسیع پسندانہ خواہشات، اور سمندر سے حاصل ہونے والی بازدارانہ صلاحیت کی بڑھتی ہوئی اہمیت نے پاکستان نیوی کو اپنی بحری دفاعی صلاحیتوں کو جدید بنانے پر مجبور کر دیا ہے۔ ان پیش رفتوں میں سب سے اہم مگر نسبتاً کم زیرِ بحث موضوع پاکستان کے ساحلی دفاعی راکٹ اور میزائل نیٹ ورک کی اپ گریڈیشن ہے، جسے غیر رسمی طور پر “منی نیول راکٹ فورس” بھی کہا جاتا ہے۔
دفاعی حلقوں اور علاقائی عسکری تجزیوں کے مطابق پاکستان اپنی ساحلی دفاعی رسائی کو تقریباً 300 کلومیٹر سے بڑھا کر 500 کلومیٹر تک لے جانے کی سمت میں پیش رفت کر رہا ہے۔ یہ تبدیلی انتہائی اہم ہے کیونکہ اس سے شمالی بحیرۂ عرب میں بحری جنگ کے عملی خدوخال تبدیل ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کے ساحلی دفاعی نظریے کا ارتقا*
تاریخی طور پر پاکستان کی بحری حکمتِ عملی مہنگی طاقت کے اظہار (Power Projection) کے بجائے دفاعی نوعیت کے “Sea Denial” پر مبنی رہی ہے۔ بھارتی بحریہ کے مقابلے میں وسائل اور بجٹ کی محدودیت کے باعث پاکستان نے درج ذیل شعبوں پر سرمایہ کاری کی:
* تیز رفتار حملہ آور کشتیاں
* اینٹی شپ میزائل سسٹمز
* آبدوزی جنگی صلاحیت
* ساحلی میزائل بیٹریاں
* بحری نگرانی اور انٹیگریٹڈ سرویلنس
اس حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد ہمیشہ یہ رہا کہ دشمن بحری افواج کو پاکستان کے ساحل اور اہم بحری تنصیبات کے قریب آزادانہ کارروائی سے روکا جائے۔
اس نظریے کی اہمیت مزید بڑھ گئی جب
* بھارت نے اپنے کیریئر بیٹل گروپس میں اضافہ کیا،
* طویل فاصلے تک نگرانی کرنے والے بحری طیارے تعینات کیے،
* براہموس میزائل کو بحری پلیٹ فارمز میں شامل کیا،
* اور بحرِ ہند میں بھارت اور امریکہ کے بحری تعاون میں اضافہ ہوا۔
نتیجتاً پاکستان کو ایک ایسی کثیر پرت (Layered) اینٹی ایکسس/ایریا ڈینائل (A2/AD) صلاحیت کی ضرورت محسوس ہوئی جو دشمن بحری بیڑوں کے لیے بھاری قیمت کا باعث بن سکے۔
300 کلومیٹر سے 500 کلومیٹر: اس کی اہمیت کیا ہے؟
ساحلی حملہ آور صلاحیت کو 500 کلومیٹر تک بڑھانا جنگی ماحول کو نمایاں طور پر تبدیل کر دیتا ہے۔
300 کلومیٹر کی حد تک ساحلی دفاع بنیادی طور پر تحفظ فراہم کرتا ہے
* کراچی کے بحری راستوں کو،
* گوادر کے قریب سمندری علاقوں کو،
* اہم بندرگاہوں کو،
* اور ساحل کے قریب موجود بحری اثاثوں کو۔
جبکہ 500 کلومیٹر کی رسائی پاکستان کو یہ صلاحیت دیتی ہے کہ
* دشمن جہازوں کو بحیرۂ عرب کے زیادہ اندر تک نشانہ بنایا جا سکے،
* بحری بازدارانہ صلاحیت میں اضافہ ہو،
* میزائل انگیجمنٹ زونز ایک دوسرے سے جڑ جائیں،
* سمندری تجارتی راستوں کا بہتر تحفظ ممکن ہو،
* اور دشمن کے کیریئر گروپس کی کارروائیاں پیچیدہ بن جائیں۔
عملی طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ دشمن بحری کمانڈروں کو پاکستان کی سمندری حدود کے قریب پہنچنے سے بہت پہلے طویل فاصلے تک مار کرنے والے اینٹی شپ میزائلوں کے خطرے کو مدنظر رکھنا ہوگا۔
جدید بحری جنگ میں انضمام
جدید بحری جنگ صرف پلیٹ فارمز کی جنگ نہیں رہی بلکہ اب یہ نیٹ ورک سینٹرک جنگ بن چکی ہے۔ آج کے ساحلی میزائل سسٹمز انحصار کرتے ہیں
* اوور دی ہورائزن ٹارگٹنگ پر،
* سیٹلائٹس پر،
* میری ٹائم پیٹرول طیاروں پر،
* ڈرونز پر،
* الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز پر،
* اور ریئل ٹائم ڈیٹا فیوژن پر۔
دفاعی ٹیکنالوجی کے شعبے میں چین کے ساتھ بڑھتا ہوا تعاون غالباً پاکستان کی مدد کر رہا ہے:
* ہدف کے حصول میں،
* میزائل رہنمائی کے نظام میں،
* ساحلی ریڈار نیٹ ورکنگ میں،
* اور مربوط بحری نگرانی میں۔
ممکنہ مقصد ایک ایسا مربوط “Kill Chain” تشکیل دینا ہے جو درج ذیل اجزاء کو آپس میں جوڑ دے:
1. بحری نگرانی کے ذرائع
2. ساحلی کمانڈ مراکز
3. میزائل لانچ بیٹریاں
4. بحری فضائیہ
5. آبدوزی قوت
اس قسم کا انضمام حملہ آور صلاحیت اور بقا دونوں میں نمایاں اضافہ کرتا ہے۔
“منی نیول راکٹ فورس” کا تصور
اگرچہ “منی نیول راکٹ فورس” کوئی سرکاری اصطلاح نہیں، لیکن تزویراتی اعتبار سے یہ ایک اہم تصور ہے۔ یہ ساحلی دفاع کے روایتی جامد نظام سے نکل کر ایک متحرک، نیٹ ورکڈ اور درست نشانہ لگانے والی قوت میں تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔
اس میں شامل ہو سکتے ہیں:
* ٹرک پر نصب اینٹی شپ میزائل لانچرز،
* طویل فاصلے تک مار کرنے والی ساحلی راکٹ آرٹلری،
* موبائل کمانڈ گاڑیاں،
* دھوکہ دہی (Decoy) سسٹمز،
* اور تیز رفتار مقام کی تبدیلی کی صلاحیت۔
متحرک لانچر اس لیے اہم ہیں کیونکہ مستقل ساحلی تنصیبات پیشگی فضائی یا میزائل حملوں کا آسان ہدف بن سکتی ہیں۔
یہ تصور ان نظریات سے مشابہت رکھتا ہے جو
* چین،
* ایران،
* اور دیگر چھوٹی بحری ریاستیں
غیر متناسب بازدارانہ حکمتِ عملی کے طور پر اپناتی جا رہی ہیں۔
بحیرۂ عرب پر تزویراتی اثرات
500 کلومیٹر تک مؤثر ساحلی دفاعی صلاحیت کے کئی اہم نتائج ہو سکتے ہیں:
1۔ گوادر کا بہتر تحفظ
گوادر بندرگاہ پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) کا ایک اہم ستون ہے۔ وسیع میزائل کوریج سے تحفظ ملے گا:
* تجارتی جہاز رانی کو،
* توانائی کی سپلائی لائنز کو،
* بحری لاجسٹکس کو،
* اور مستقبل کی بحری تنصیبات کو۔
2۔ کیریئر بیٹل گروپس کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ
طیارہ بردار بحری جہاز محفوظ فاصلے سے کارروائی پر انحصار کرتے ہیں۔ طویل فاصلے تک مار کرنے والے اینٹی شپ میزائل ان کی آپریشنل منصوبہ بندی کو زیادہ پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔
3۔ دوسری جوابی ضرب (Second Strike) کے ماحول کو مضبوطی
پاکستان کی بحری بازدارانہ حکمتِ عملی بتدریج ایسی صلاحیتوں کی جانب بڑھ رہی ہے جو دوسری جوابی ضرب کی بقا کو یقینی بنائیں۔ ساحلی دفاعی نظام بحری اثاثوں اور سمندر میں موجود بازدارانہ قوت کے تحفظ میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
4۔ کم لاگت میں مؤثر غیر متناسب دفاع
طیارہ بردار بحری جہازوں کی تعمیر اور دیکھ بھال انتہائی مہنگی ہے، جبکہ ساحلی میزائل سسٹمز نسبتاً کم لاگت میں بڑی بحری طاقتوں کے خلاف مؤثر بازدارانہ صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔
پاکستان کو درپیش چیلنجز
ترقی کے باوجود کئی چیلنجز باقی ہیں
* انٹیلی جنس، نگرانی اور جاسوسی (ISR) میں خلا،
* بیرونی ٹیکنالوجی پر انحصار،
* سیٹلائٹ صلاحیتوں کی محدودیت،
* الیکٹرانک وارفیئر کے خطرات،
* اور مقامی میزائل پیداوار کی محدود گہرائی۔
صرف میزائل کی رینج بڑھا دینا کافی نہیں، جب تک:
* قابلِ اعتماد ٹارگٹنگ سسٹمز،
* محفوظ مواصلاتی نظام،
* اور جنگی حالات میں مضبوط کمانڈ اینڈ کنٹرول ڈھانچہ
موجود نہ ہو۔
وسیع علاقائی تناظر
بحرِ ہند تیزی سے عسکری نوعیت اختیار کر رہا ہے۔ اس خطے میں:
* بھارت،
* چین،
* امریکہ،
* اور خلیجی بحری قوتوں
کے درمیان بڑھتی ہوئی مسابقت علاقائی بحری نظریات کو نئی شکل دے رہی ہے۔
اس ماحول میں پاکستان کی بحری جدیدکاری محض دفاعی اقدام نہیں بلکہ بحیرۂ عرب میں تزویراتی توازن برقرار رکھنے کی ایک وسیع کوشش کا حصہ ہے۔
نتیجہ
پاکستان کی جانب سے ساحلی دفاعی رسائی کو 300 کلومیٹر سے بڑھا کر 500 کلومیٹر تک لے جانے کی کوشش بحری بازدارانہ حکمتِ عملی میں ایک بڑی پیش رفت کی نمائندگی کرتی ہے۔ ساحلی میزائل فورسز کی جدیدکاری، نگرانی کے مربوط نظام، اور متحرک اینٹی شپ حملہ آور صلاحیتوں کی ترقی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نیوی اکیسویں صدی کی بحری جنگ کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھال رہی ہے۔
بڑی بحری طاقتوں سے روایتی انداز میں مقابلہ کرنے کے بجائے پاکستان اپنی غیر متناسب بحری حکمتِ عملی کو مزید مؤثر بنا رہا ہے، جس کا مرکز سمندری انکار (Sea Denial)، بقا (Survivability) اور درست نشانہ لگانے کی صلاحیت ہے۔
اگر یہ تمام صلاحیتیں ایک جامع A2/AD نظام میں مؤثر طور پر ضم کر دی جائیں تو یہ جدید ساحلی دفاعی نیٹ ورک شمالی بحیرۂ عرب میں آپریشنل توازن کو نمایاں طور پر متاثر کر سکتا ہے اور آنے والے برسوں میں پاکستان کی بحری تزویراتی پوزیشن کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔
