Baaghi TV

امریکا آسٹریلیا کو سیکنڈ ہینڈ ورجینیا کلاس آبدوزیں دے گا

aust

امریکا، برطانیہ اور آسٹریلیا کے درمیان ہونے والے تاریخی ’آوکس‘ سیکیورٹی معاہدے میں ایک اہم ترین تبدیلی سامنے آئی ہے، جس کے تحت امریکا اب آسٹریلیا کو ایک بھی نئی جوہری آبدوز فراہم نہیں کرے گا، بلکہ اس کی جگہ تینوں سیکنڈ ہینڈ (استعمال شدہ) ورجینیا کلاس آبدوزیں دی جائیں گی۔

آسٹریلوی وزیر دفاع رچرڈ مارلس نے اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کوئی بھی نئی ورجینیا کلاس کشتی نہ خریدنے کا مقصد نظام کو آسان ترین بنانا ہے اس سے قبل آسٹریلیا کو ایک نئی اور 2 پرانی آبدوزیں ملنے کی توقع تھی، تاہم اب تینوں ہی استعمال شدہ آبدوزیں خریدنے سے آسٹریلیا کے دفاعی بجٹ میں خطیر رقم کی بچت ہوگی۔

آسٹریلوی وزیر دفاع نے اعتراف کیا کہ اگرچہ اس تبدیلی سے طویل المدتی معاہدے کی مجموعی لاگت پر کوئی بنیادی اثر نہیں پڑے گا، جس کا تخمینہ اب بھی کم از کم 370 ارب ڈالرز ہے، لیکن تینوں استعمال شدہ آبدوزوں کے انتخاب سے آسٹریلوی عملے کے لیے تربیت اور آپریشنل امور انتہائیجوہری آبدوز آسان اور سستے ہو جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اس راستے پر چلتے ہوئے ہر ممکنہ کفایت شعاری کے آپشن کو تلاش کررہے ہیں، جو مجموعی پروگرام کی لاگت میں ایک مفید مالیاتی بچت کا باعث بنے گا آوکس معاہدے کی لاگت اس کے پورے دورانیے کے دوران آسٹریلیا کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا محض 0.15 فیصد بنتی ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل آسٹریلیا کے وزیر دفاع رچرڈ مارلس، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور برطانوی وزیر دفاع جان ہیلی نے ایک مشترکہ بیان میں آبدوزوں کی فراہمی کے اس معاہدے میں کی جانے والی حالیہ ترمیم کی باقاعدہ تصدیق کی تھی اس نئی حکمت عملی کے تحت سال 2030 کے اوائل سے آسٹریلوی عملہ ان استعمال شدہ امریکی آبدوزوں پر باقاعدہ فرائض سرانجام دینا شروع کر دے گا، جس سے خطے میں دفاعی توازن پر گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔

More posts