Baaghi TV

برطانوی نیوز چینل ‘اسکائی’ کا یو اے ای کے ساتھ پارٹنر شپ ختم کرنے کا اعلان

uae

برطانیہ کے مشہور میڈیا گروپ ’اسکائی‘ نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ساتھ اپنے ٹی وی نیوز کے مشترکہ منصوبے ’اسکائی نیوز عربیہ‘ سے الگ ہونے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے.

اسکائی نے اپنے اماراتی پارٹنر ’آئی ایم آئی‘ کے ساتھ ایک نئے تجارتی معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت اب وہ اس 24 گھنٹے چلنے والے عربی نیوز چینل کی تمام اسٹریٹجک اور آپریشنل ذمہ داریوں سے دستبردار ہو جائے گا، تاہم ایک کثیر السالہ برانڈ لائسنسنگ معاہدے کے تحت یہ چینل اپنا پرانا نام برقرار رکھ سکے گا.

یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سوڈان جنگ کے دوران اس چینل کی کوریج پر شدید تنقید کی جا رہی تھی اور اس پر نسل کشی کے حقائق چھپانے کے الزامات عائد کیے جا رہے تھےابوظہبی سے نشر ہونے والا یہ چینل 2010 میں الجزیرہ اور بی بی سی عربی کا مقابلہ کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا جس نے 2012 میں باقاعدہ نشریات کا آغاز کیا تھا.

اس اہم تبدیلی کے موقع پر اسکائی نیوز گروپ کے ایگزیکٹو چیئرمین ڈیوڈ روڈز نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ آئی ایم آئی کے ساتھ ہماری شراکت داری کے ذریعے برسوں کے دوران بہت کچھ تیار کیا گیا اور پورے خطے میں ایک نمایاں شناخت بنائی گئی، اس تبدیلی کے لیے یہ بالکل مناسب وقت ہے اور ہم اسکائی نیوز عربیہ کے اگلے مرحلے میں اپنے تعلقات کو جاری رکھنے کے منتظر ہیں.

تاہم برطانوی اخبار ’دی گارڈین‘ نےاندرونی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اسکائی کےاعلیٰ حکام خطے کی خبروں پر اسکائی نیوز عربیہ کی پالیسی پر کافی عرصے سے فکر مند تھےخاص طور پر متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز کی جانب سے سوڈان میں مبینہ مظالم کی کوریج پر سوالا ت اٹھائے جا رہے تھے.

اسی وجہ سے نومبر میں سوڈان کی حکومت نے اسکائی نیوز عربیہ پر اپنے ملک میں کام کرنے پر پابندی بھی لگا دی تھی کیونکہ چینل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہاں انسانی صورتحال مستحکم ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے فیکٹ فائنڈنگ مشن نے اپنی رپورٹ میں وہاں اقلیتوں کو نشانہ بنانے اور نسل کشی کے واضح ثبوتوں کا ذکر کیا تھا، اگرچہ متحدہ عرب امارات ان مظالم میں ملوث ہونے کی تردید کرتا ہے.

اسکائی نیوز کا مشرق وسطیٰ میں خبروں کی فراہمی سے پیچھے ہٹنے کا یہ فیصلہ آسٹریلیا میں کیے گئے ایسے ہی ایک فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے جہاں امریکی کمپنی کامکاسٹ نے آسٹریلیا میں اسکائی نیوز کا برانڈ لائسنس تجدید نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد وہ چینل اب نیوز ٹوئنٹی فور کے نام سے کام کرے گا.

More posts