بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے علاقے مالویہ نگر میں ایک ہوٹل میں لگنے والی خوفناک آگ کے نتیجے میں کم از کم 21 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔
بھارتی حکام کے مطابق بدھ کی صبح جنوبی دہلی کے علاقے مالویہ نگر میں واقع ”فلورش اسٹے بی اینڈ بی“ نامی ہوٹل میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، آگ لگنے کےبعد عمارت میں پھنسے افراد میں بھگدڑ مچ گئی دہلی فائر سروس کو صبح تقریباً 9 بجے آگ لگنے کی اطلاع موصول ہوئی، جس کے بعد فوری طور پر فائر بریگیڈ کی آٹھ گاڑیا ں، واٹر ٹینکرز، واٹر باؤزرز اور دیگر امدادی ٹیمیں موقع پر روانہ کی گئیں۔
عینی شاہدین کے مطابق آگ اور دھوئیں سے بچنے کے لیے عمارت میں موجود افراد نے شدید خوف و ہراس میں باہر نکلنے کی کوشش کی۔ سوشل میڈیا اور مقامی میڈیا پر نشر ہونے والی ویڈیوز میں دو خواتین کو جان بچانے کے لیے عمارت سے چھلانگ لگاتے ہوئے دیکھا گیا، تاہم ان کی حالت کے بارے میں فوری طور پر کوئی معلومات سامنے نہیں آئیں۔
ریسکیو حکام نے عمارت میں پھنسے 40 سے زائد افراد کو بحفاظت نکال لیا، جبکہ متعدد زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، ابتدائی طور پر تہہ خانے سے تین افراد کو زندہ نکالا گیا تھا ریسکیو آپریشن کے دوران ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا اور بعد ازاں حکام نے 21 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کردی۔
ذرائع کے مطابق ہوٹل کو دہلی حکومت کی بیڈ اینڈ بریک فاسٹ اسکیم کے تحت صرف 6 کمروں کے آپریشن کی اجازت دی گئی تھی، تاہم مبینہ طور پر وہا ں 25 کمرے چلائے جا رہے تھے، جن میں کچھ تہہ خانے میں بھی قائم تھے، اس انکشاف کے بعد حفاظتی ضوابط اور لائسنس کی خلاف ورزیوں کے حوا لے سے سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔
آگ پر قابو پانے کے بعد سامنے آنے والی تصاویر میں عمارت کا اگلا حصہ مکمل طور پر جل چکا تھا، جبکہ کئی منزلوں کی کھڑکیاں دھوئیں اور شعلوں سے سیاہ ہو گئی تھیں آگ لگنے کی اصل وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی، تاہم واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا فائر سیفٹی قوانین پر عمل کیا جا رہا تھا یا نہیں۔
دوسری جانب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے سانحے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے لیے 2 لاکھ بھارتی روپے اور زخمیوں کے لیے 50 ہزار روپے مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔
