بلوچستان میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے)، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور القاعدہ اب خواتین اور نوجوانوں کو منظم انداز میں انتہا پسند ی کی جانب راغب کر کے خودکش حملوں اور دیگر دہشتگرد سرگرمیوں میں استعمال کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مختلف شدت پسند تنظیموں کے درمیان بڑھتا ہوا اشتراک دہشتگردوں کو لاجسٹک سہولتیں، تربیتی وسائل، مالی معاونت اور بھرتی کے وسیع نیٹ ورکس فراہم کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں سیکیورٹی فورسز، سرکاری تنصیبات اور شہری آبادیوں کو مسلسل خطرات لاحق ہیں حالیہ برسوں میں دہشتگرد تنظیموں نے معاشی مشکلات، سماجی کمزوریوں اور نفسیاتی عوامل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نوجوانوں اور خواتین کی بھرتی پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے۔
ماہرین کے مطابق ان افراد کو نظریاتی طور پر تیار کرنے کے بعد خودکش حملوں، سہولت کاری اور تنظیمی نیٹ ورکس کو وسعت دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے سیکیورٹی اداروں کا ماننا ہے کہ نوجوانوں اور خواتین کو استعمال کرنے کی یہ حکمت عملی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر رہی ہے۔
مارچ 2026 میں سیکیورٹی اداروں نے ضلع خضدار سے تعلق رکھنے والی 19 سالہ لائبہ عرف فرزانہ کے مبینہ خودکش حملے کی منصوبہ بندی ناکام بنا دی تحقیقا ت کے مطابق لائبہ جولائی 2025 میں کالعدم بی ایل اے میں شامل ہوئی تھی اسے سابق ٹی ٹی پی کمانڈر ابراہیم عرف قاضی ماما کے نیٹ ورک کے ذر یعے انتہا پسند نظریات کی طرف مائل کیا گیا اور بعد ازاں بی ایل اے کے حوالے کر دیا گیا لائبہ کو نہ صرف ایک ممکنہ خودکش کارروائی کے لیے تیار کیا جا رہا تھا بلکہ اسے مالی طور پر کمزور نوجوان خواتین کو تنظیم میں شامل کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا تھا سیکیورٹی حکام کے مطابق یہ کیس اس رجحان کی ایک اہم مثال ہے جس میں خواتین کو دہشت گرد نیٹ ورکس کی توسیع کے لیے فعال کردار دیا جا رہا ہے۔
ایک اور کیس میں رحیمہ بی بی کے بیان نے دہشتگرد تنظیموں کے باہمی روابط کے حوالے سے نئے سوالات کھڑے کر دیے بیان کے مطابق اس کے شوہر نے زرینہ رفیق نامی ایک خاتون خودکش بمبار کی معاونت کی، جس کا تعلق کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) سے بتایا گیا حملے سے قبل زرینہ کو افغانستان منتقل کیا گیا، جہاں اسے عسکری تربیت فراہم کی گئی۔
سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق بی ایل اے کی آپریشنل صلاحیتوں میں اضافے کی ایک وجہ ٹی ٹی پی اور القاعدہ سے منسلک نیٹ ورکس کے ساتھ مبینہ تعاون بھی قرار دیا جا رہا ہے ماہرین کے مطابق یہ گٹھ جوڑ دہشتگرد تنظیموں کو اسلحہ اور بارودی مواد تک رسائی، تربیتی سہولتیں، مالی معاونت، آپریشنل رہنمائی اور بھرتی کے مؤثر نیٹ ورکس فراہم کرتا ہے۔
ان کے مطابق افغانستان کے راستے موجود سہولت کار مختلف دہشت گرد تنظیموں کے درمیان رابطوں اور کارروائیوں میں معاونت کرتے ہیں، جس سے حملوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد نسبتاً آسان ہو جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ بعض سیکیورٹی ماہرین اس رجحان کو خطے میں دہشتگردی کی بدلتی ہوئی حکمت عملی کا اہم پہلو قرار دیتے ہیں۔
کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب ہونے والے حملے نے ایک بار پھر یہ واضح کیا کہ بلوچستان میں سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس اب بھی ایک سنجیدہ خطرہ ہیں اس حملے میں قیمتی جانوں کے ضیاع کے ساتھ قریبی گھروں اور املاک کو بھی نقصان پہنچا سیکیورٹی مبصرین کے مطابق یہ واقعہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں مختلف نیٹ ورکس، سہولت کاروں اور معاون گروہوں کے ذریعے اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جس کے باعث امن و امان کے قیام کی کوششوں کو مسلسل چیلنجز درپیش رہتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے باوجود اب سب سے بڑا چیلنج صرف دہشتگرد حملوں کو روکنا نہیں بلکہ ان بھرتی نیٹ ورکس کو توڑنا بھی ہے جو نوجوانوں اور خواتین کو انتہا پسندی کی طرف لے جا رہے ہیں، آن لائن انتہا پسندی کا مقابلہ، نوجوانوں میں شعور اور آگاہی پیدا کرنا، خواتین کو معاشی اور سماجی تحفظ فراہم کرنا، اور دہشت گرد بھرتی نیٹ ورکس کا خاتمہ انسدادِ دہشتگردی کی حکمت عملی کے اہم ستون بن چکے ہیں ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ صرف عسکری اقدامات کافی نہیں بلکہ سماجی، تعلیمی اور معاشی سطح پر بھی مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بلوچستان میں بی ایل اے، ٹی ٹی پی اور القاعدہ سے منسلک عناصر کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون دہشتگردی کے ایک نئے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں خواتین اور نوجوانوں کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔ لائبہ عرف فرزانہ اور رحیمہ بی بی جیسے کیسز اس بات کی مثال سمجھے جا رہے ہیں کہ کس طرح سرحد پار تربیتی نیٹ ورکس، مقامی سہولت کار اور انتہا پسند تنظیموں کے درمیان تعاون دہشتگردی کو برقرار رکھنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ رجحان نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے خطے کی سلامتی کے لیے ایک پیچیدہ، کثیر جہتی اور طویل المدتی چیلنج بنتا جا رہا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی، سماجی اور سیاسی سطح پر مربوط حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔
