اداکارہ مومنہ اقبال کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے کے معاملے میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے رکنِ پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق مقدمہ مومنہ اقبال کی جانب سے فراہم کردہ شواہد اور شکایت کی بنیاد پر درج کیا گیا۔ مدعی کے مطابق ثاقب چدھڑ اور ان کے ساتھیوں نے اداکارہ کو بلیک میل کرنے اور دھمکیاں دینے کی کوشش کی۔مقدمے کے متن میں کہا گیا ہے کہ ملزم نے مبینہ طور پر دھمکی دی کہ اگر شادی نہ کی گئی تو متعلقہ ڈیٹا لیک کر دیا جائے گا۔ مومنہ اقبال کی بہن نے دھمکیوں سے متعلق ویڈیوز این سی سی آئی اے کو فراہم کیں، جنہیں دیگر ڈیجیٹل شواہد کے ساتھ تحویل میں لے کر فرانزک معائنے کے لیے بھجوا دیا گیا ہے۔ایف آئی آر میں مزید کہا گیا ہے کہ ثاقب چدھڑ کے موبائل نمبر سے دھمکی آمیز پیغامات بھی بھیجے گئے۔ دستاویزات کے مطابق مومنہ اقبال کو جب ثاقب چدھڑ کی پہلی شادی کا علم ہوا تو انہوں نے شادی سے انکار کر دیا، جس کے بعد مبینہ طور پر انہیں پرائیویٹ ویڈیوز کے ذریعے بلیک میل کیا جانے لگا۔
شکایت میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ 2023 میں ثاقب چدھڑ نے جھوٹے الزامات لگا کر اداکارہ کا ایک رشتہ ختم کروایا، جبکہ بعد ازاں مومنہ اقبال اور ان کے موجودہ شوہر کو بھی دھمکیاں دی گئیں۔ایف آئی آر کے مطابق ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ اور بعض ساتھیوں پر سائبر ہراسگی، بلیک میلنگ، غیر قانونی نگرانی اور اداکارہ کے اہلِ خانہ کو دھمکیاں دینے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ تفتیشی ادارے کا کہنا ہے کہ ملزم نے موبائل فون این سی سی آئی اے کے حوالے کرنے سے قبل اس میں موجود ڈیٹا اور مختلف ایپلی کیشنز حذف کر دی تھیں۔
یاد رہے کہ اداکارہ مومنہ اقبال نے چند روز قبل این سی سی آئی اے میں ثاقب چدھڑ کے خلاف باضابطہ شکایت درج کروائی تھی، جس کے بعد ادارے نے تحقیقات کا آغاز کیا اور اب مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ تاہم الزامات کے حوالے سے ثاقب چدھڑ کا مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا۔
