ڈیجیٹل یوتھ موومنٹ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دپکے کی بھارت آمد اور مجوزہ احتجاج کے پیشِ نظر دہلی پولیس نے شہر بھر میں خصوصاً جنتر منتر کے اطراف سکیورٹی انتہائی سخت کر دی ہے۔
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں آج کاکروچ جنتا پارٹی کا ملک کے اہم امتحانات کے پرچے لیک ہونے کے خلاف پُرامن احتجاج ہونے جا رہا ہے جس کی قیادت کرنے پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے بھی بھارت پہنچ چکے ہیں
رائٹرز کے مطابق بھارت کی وائرل نوجوان تحریک ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے بانی ابھیجیت دیپکے ہفتے کے روز نئی دہلی پہنچے اور انہوں نے جنتر منتر کے مقا م پر ہونے والے احتجاج کی قیادت کی، یہ پہلا موقع ہے کہ اس آن لائن تحریک نے اپنی بڑی ڈیجیٹل موجودگی کو منظم عوامی احتجاج میں تبدیل کیا ہے۔
ابھیجیت دیپکے جو گزشتہ 2 برس سے امریکا میں مقیم تھے، نے پہلے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ بھارت واپسی پر انہیں گرفتار کیا جا سکتا ہے احتجاج کے دوران دارا لحکومت کے حساس علاقے جنتر منتر کے اطراف سخت سیکیورٹی تعینات رہی اور پولیس نے کئی سڑکیں بند کر دیں، جبکہ مظاہرین نے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے میں نعرے بازی کی۔
بھارتی پولیس حکام کے مطابق مرکزی دہلی اور جنتر منتر کے گرد ایک ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جو اہم مقامات کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں احتجاجی مقام تک پہنچنے والے تمام مرکزی راستوں پر کئی سطحوں پر بھاری بیریکیڈز نصب کیے گئے ہیں تاکہ مظاہرین کے داخلے کو منظم اور کنٹرول کیا جا سکے۔
سینئر پولیس افسران مقام کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں جبکہ ممکنہ ہجوم کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی بھی حقیقی وقت میں نگرانی کی جا رہی ہے،دہلی پولیس نے سیکیورٹی اقدامات کے تحت ڈرون یونٹس بھی تعینات کر رکھے ہیں جو نئی دہلی میں ہجوم کی تعداد، طلبہ کے اجتما عات اور نقل و حرکت کے انداز کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی کر رہے ہیں۔
دوسری جانب کاکروچ جنتا پارٹی کے عہدیداروں نے احتجاج میں شرکت کے لیے آنے والے تمام طلبہ حامیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مکمل طور پر پرامن رہیں، کسی بھی قسم کے تصادم سے گریز کریں، قومی پرچم (ترنگا) اپنے ساتھ رکھیں اور ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں کو پھول پیش کریں۔
حکومت کی جانب سے اس تحریک کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کو بھارت میں بلاک کیا جا چکا ہے، جس پر تنظیم نے عدالت سے رجوع کیا ہے۔ دوسری جانب بھارتی حکومت کے ایک سینیئر وزیر نے اس گروپ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ مخالف عناصر سے رابطے رکھتا ہے، تاہم تحریک نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
یہ تحریک مختصر عرصے میں لاکھوں نوجوانوں کی توجہ حاصل کر چکی ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ وہ بھارت میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری، امتحانی پرچوں کے بار بار لیک ہونے اور معاشی دباؤ جیسے مسائل کو اجاگر کر رہی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس تحریک کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے وزیرِاعظم مودی کی سیاسی شبیہ پر اثر ڈالنا شروع کر دیا ہے، اگرچہ حکمران جماعت حالیہ ریاستی انتخابات میں کامیاب رہی ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور معاشی دباؤ بھی نوجوان طبقے میں بے چینی کو بڑھا رہا ہے بھارت میں 15 سے 29 سال کی عمر کے تقریباً 40 کروڑ افراد موجود ہیں، اور ماہرین کے مطابق اس بڑی نوجوان آبادی کے لیے روزگار کی فراہمی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔
