ڈیرہ غازی خان: پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے سنگم پر واقع قبائلی علاقہ چتروٹہ ایک مرتبہ پھر سکیورٹی اداروں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ ایک تفصیلی انٹیلی جنس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے چتروٹہ راہداری میں اپنی منظم موجودگی قائم کرتے ہوئے اسمگلنگ کے نیٹ ورکس سے بھتہ وصولی کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، جسے دہشت گردی کی مالی معاونت کا مستقل ذریعہ بنایا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق چٹتوٹہ ضلع ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقے تونسہ میں واقع ایک انتہائی اہم جغرافیائی مقام ہے جہاں پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی سرحدیں آپس میں ملتی ہیں۔ کوہِ سلیمان کے دشوار گزار پہاڑی سلسلے میں واقع یہ علاقہ اپنی پیچیدہ جغرافیائی ساخت، برساتی ندی نالوں اور خفیہ گزرگاہوں کی وجہ سے عسکریت پسندوں اور جرائم پیشہ عناصر کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چتروٹہ میں قائم بارڈر ملٹری پولیس (بی ایم پی) چوکی پنجاب کی سرحدی دفاعی لائن کا اہم حصہ ہے، تاہم مئی 2026 میں ٹی ٹی پی کے حملے میں اس چوکی کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گرد تنظیم کا مقصد علاقے میں ریاستی رٹ کو کمزور کرنا اور اپنی مستقل موجودگی کو یقینی بنانا ہے۔
رپورٹ کے مطابق چتروٹہ اور اس کے اطراف کے علاقے کم آبادی والے اور مکمل طور پر قبائلی نوعیت کے حامل ہیں جہاں روایتی قبائلی نظام اب بھی غالب ہے۔ قیصرانی بلوچ قبیلہ مقامی وادیوں اور پہاڑی راستوں پر اثر و رسوخ رکھتا ہے جبکہ بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل میں ایسوٹ اور زمری پشتون قبائل اہم پہاڑی گزرگاہوں پر کنٹرول رکھتے ہیں۔ شمال میں خیبر پختونخوا کے علاقے خوئی پیوار اور خوئی بہارا استرانہ پشتون قبیلے کے زیر اثر ہیں۔انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی نے انہی پہاڑی علاقوں میں خفیہ ٹھکانے اور آپریشنل اڈے قائم کر رکھے ہیں جہاں سے وہ اسمگلنگ روٹس کی نگرانی اور بھتہ خوری کی کارروائیاں انجام دیتی ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گوزی سیکٹر میں تقریباً 18 سے 20 بھاری ہتھیاروں سے لیس ٹی ٹی پی جنگجو موجود ہیں۔ یہ مقام پنجاب اور خیبر پختونخوا کے درمیان واقع مرکزی اسمگلنگ راستے سے محض 5 سے 6 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، جس کے باعث دہشت گرد باآسانی نقل و حرکت کرنے والی گاڑیوں اور تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ذرائع کے مطابق تنظیم نان کسٹم پیڈ (این سی پی) سامان، خصوصاً سگریٹ اور ایرانی تیل لے جانے والی گاڑیوں سے 15 ہزار سے 20 ہزار روپے فی گاڑی کے حساب سے بھتہ وصول کر رہی ہے۔ رپورٹ میں اس عمل کو ٹی ٹی پی کی دہشت گردی کی مالی معاونت کا اہم ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بلوچستان سے آنے والا غیر قانونی سامان مختلف راستوں سے چتروٹہ پہنچتا ہے اور وہاں سے پنجاب اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔اسمگلنگ کے اہم راستوں میں مکھتر، موسیٰ خیل، کارکانہ، ڈب بینی، چتروٹہ، درہ وہوا، درہ کورہ، گوزی، خوئی پیوار، بستی بزدار اور رامک سمیت متعدد مقامات شامل ہیں۔ بعض راستے براہ راست درہ وہوا اور درہ کورہ سے ہوتے ہوئے بستی گرو، بستی متھوان اور بستی باجھہ تک پہنچتے ہیں۔رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ چتروٹہ سے قریبی سکیورٹی تنصیبات کے درمیان فاصلہ نسبتاً زیادہ ہے، جس کی وجہ سے ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل مشکل ہو سکتا ہے۔ بی ایم پی چتروٹہ سے تھانہ وہوا 25 کلومیٹر، بی ایم پی لکھانی 28 کلومیٹر، پولیس پکٹ جھنگی 43 کلومیٹر جبکہ جوائنٹ چیک پوسٹ ٹریمن 48 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔سکیورٹی ماہرین کے مطابق گوزی سیکٹر کا چتروٹہ سے صرف 5 سے 6 کلومیٹر کا فاصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ٹی ٹی پی مختصر وقت میں علاقے میں اپنی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کر سکتی ہے۔
انٹیلی جنس رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی چتروٹہ اور اس سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں مستقل آپریشنل نیٹ ورک قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ اسمگلنگ سے حاصل ہونے والی آمدن کو مستقل بنیادوں پر اپنے مالیاتی نظام کا حصہ بنایا جا سکے۔ رپورٹ میں اس خطرے سے نمٹنے کے لیے سرحدی نگرانی، انٹیلی جنس شیئرنگ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مربوط کارروائیوں کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
