ڈومنیکن ریپبلک کے مشرقی علاقے میں واقع لا رومانا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک نجی طیارہ ایمرجنسی لینڈنگ کے دوران خوفناک حادثے کا شکار ہو گیا، جس کے نتیجے میں طیارے میں آگ بھڑک اٹھی اور وہ چند ہی منٹوں میں مکمل طور پر جل کر تباہ ہو گیا۔ حادثے میں پائلٹ اور شریک پائلٹ جان کی بازی ہار گئے۔
نیشنل ایوی ایشن اتھارٹی نے 8 جون کو جاری بیان میں بتایا کہ یہ افسوسناک واقعہ 7 جون کو پیش آیا، جب ایک امریکی رجسٹرڈ نجی جیٹ پرواز کے دوران پیش آنے والی تکنیکی یا ہنگامی صورتحال کے باعث واپس ایئرپورٹ پر اترنے کی کوشش کر رہا تھا۔ تاہم ایمرجنسی لینڈنگ کے دوران طیارہ رن وے پر بے قابو ہو گیا اور شدید حادثے کا شکار ہو گیا۔مقامی ڈومینکن اخبار ’’ایل دیا‘‘ کے مطابق ہلاک ہونے والے پائلٹ اور شریک پائلٹ کی شناخت امریکی شہری ایرک زیویئر ڈیاگو اور روڈی گجل کے ناموں سے ہوئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کے وقت طیارے میں ان دونوں کے علاوہ کوئی اور مسافر سوار نہیں تھا۔
سوشل میڈیا پر حادثے کی ویڈیوز تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں، جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایمرجنسی لینڈنگ کے دوران جیسے ہی طیارے کے پہیے رن وے سے ٹکراتے ہیں، وہ توازن کھو بیٹھتا ہے۔ طیارہ تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے کئی بار اچھلتا ہے اور پھر اچانک ایک بڑے آتشیں گولے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ایک اور ویڈیو میں جلتے ہوئے طیارے سے اٹھنے والا گہرا دھواں بھی واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ڈومنیکن سول ایوی ایشن انسٹی ٹیوٹ نے پائلٹ اور شریک پائلٹ کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ گلف اسٹریم جی-200 ماڈل کا نجی جیٹ تھا۔ ادارے کے مطابق حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے باضابطہ تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ طیارے نے لا رومانا سے تقریباً 16 ناٹیکل میل جنوب مغرب میں ہنگامی الرٹ جاری کیا تھا، جس کے بعد اسے ایئرپورٹ واپس لا کر اتارنے کی کوشش کی گئی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق یہ طیارہ پیورٹو ریکو سے ڈومنیکن ریپبلک پہنچا تھا جہاں اس میں ایندھن بھرا گیا، اور بعد ازاں اسے امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر آسٹن روانہ ہونا تھا، تاہم روانگی کے فوراً بعد پیش آنے والی ہنگامی صورتحال کے باعث اسے واپس ایمرجنسی لینڈنگ کرنا پڑی جو المناک حادثے پر ختم ہوئی۔تحقیقاتی ادارے طیارے کے بے قابو ہونے اور آگ لگنے کی اصل وجوہات کا تعین کرنے کے لیے شواہد اکٹھے کر رہے ہیں، جبکہ حادثے کی مکمل رپورٹ آنے تک کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے گریز کیا جا رہا ہے
