Baaghi TV


شرجیل میمن کی خالد مقبول پر کڑی تنقید، کراچی کسی جماعت کی جاگیر نہیں

sharjeel

‎سندھ کے سینئر صوبائی وزیر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل انعام میمن نے ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں بلکہ پورے پاکستان کا معاشی مرکز اور سندھ کا دارالحکومت ہے۔
‎اپنے بیان میں شرجیل میمن نے کہا کہ کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس سیاسی قوت نے شہر میں امن قائم کرنے میں کردار ادا کیا اور کس دور میں شہر بھتہ خوری، لسانی کشیدگی اور بوری بند لاشوں جیسے المناک واقعات کی زد میں رہا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایم کیو ایم کی سیاست کے آغاز سے قبل کراچی ایک پُرامن اور متحرک شہر تھا جہاں دہشت گردی اور تشدد کا موجودہ طرزِ سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
‎صوبائی وزیر نے کہا کہ ماضی کے تلخ تجربات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا اور کراچی کے شہری بخوبی واقف ہیں کہ شہر نے کن ادوار میں بدامنی، خوف اور عدم استحکام کا سامنا کیا۔ ان کے مطابق شہری مسائل کو صرف سیاسی نعروں یا جذباتی بیانات سے حل نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کے لیے عملی اقدامات اور سنجیدہ منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے۔
‎شرجیل میمن نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کراچی کی ترقی اور عوامی فلاح کے لیے مسلسل کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ شہر میں اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے جن میں پبلک ٹرانسپورٹ، سڑکوں کی تعمیر و مرمت، انفراسٹرکچر کی بہتری اور شہری سہولتوں کی فراہمی شامل ہیں۔
‎انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت نے کراچی میں جدید ٹرانسپورٹ نظام متعارف کرانے، سڑکوں کے جال کو بہتر بنانے اور شہری سہولتوں میں اضافے کے لیے متعدد منصوبے شروع کیے ہیں، جن کے نتائج عوام کو بتدریج نظر آ رہے ہیں۔
‎شرجیل میمن کے مطابق کراچی میں ہونے والی مثبت تبدیلیاں اور ترقیاتی کام پیپلز پارٹی کی پالیسیوں اور عملی اقدامات کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت شہری مسائل کے حل اور عوامی خدمات کی فراہمی کے لیے اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہے اور مستقبل میں بھی ترقیاتی منصوبوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
‎سیاسی مبصرین کے مطابق کراچی کی سیاست میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان بیانات کا تبادلہ ایک بار پھر سیاسی درجہ حرارت میں اضافے کا باعث بن رہا ہے، جبکہ دونوں جماعتیں شہر کی نمائندگی اور ترقیاتی کارکردگی کے حوالے سے اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔

More posts