فلسطین تنظیم حماس نے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے۔
مزاحمتی تنظیم حماس کا کہنا ہے کہ امید ہے معاہدے سے غزہ اور لبنان میں اسرائیلی جارحیت ختم ہوگی، امید ہے معاہدہ علاقائی مسائل میں مثبت اثرات کا حامل ہوگا معاہدے سے لبنان اور دیگر محاذوں پر ہونے والے حملے رُکنے کی بھی امید ہے فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی، بھوک مسلط کرنے، جبری بے دخلی کی اسرائیلی جنگ جاری رہنے تک خطے میں امن نہیں ہو سکتا۔
واضح رہے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے تصدیق کر دی ہے کہ مفاہمتی یادداشت پر امریکا اور ایران نے دستخط کر دیے ہیں امریکا کی طرف سے صدر ٹرمپ اور جے ڈی وینس جبکہ ایران کی طرف سے اسپیکر باقر قالیباف نے دستخط کیے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) ایک مختصر اور عمومی نوعیت کی دستاویز ہے جو تقریباً ڈیڑھ صفحے پر مشتمل ہے، جبکہ حتمی معاہدے کی تفصیلات آئندہ مذاکرات اور تکنیکی سطح کی بات چیت کے دوران طے کی جائیں گی۔
علاوہ ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط ہوگئے، آبنائے ہرمز بھی کھل گئی ہے اور جمعے تک مکمل طور پر کھول دی جائے گی، ایران میں اب سمجھدار قیادت ہے، تہران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ میں کہا گیا کہ پیر کو ٹرمپ جی 7 اجلاس میں شرکت کے لیے فرانس پہنچے، جہاں انہوں نے اپنے فرانسیسی ہم منصب ایمانوئیل میکرون کے ساتھ ملاقات کی۔
اس موقع پر فرانسی صدر کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ معاہدے پر دستخط کردیے ہیں، جس میں ایران نے جوہری ہتھیار نہ بنانے پر اتفاق کیا ہے۔
