Baaghi TV


بھارت عالمی قانون سے انحراف کر رہا ہے، سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ معطل نہیں کیا جا سکتا: حنا ربانی کھر

‎سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت ایک جانب عالمی نظام میں اصول وضع کرنے والا ملک اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مستقل نشست حاصل کرنے کا خواہاں ہے، جبکہ دوسری جانب اس کا طرز عمل بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی روح کے منافی دکھائی دیتا ہے۔
‎انہوں نے کہا کہ جو ملک خود کو عالمی قوانین کا محافظ کہلوانا چاہتا ہے، اسے سب سے پہلے انہی قوانین کی پاسداری کرنا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ریاست کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ کھلے عام ایک پوری تہذیب کو مٹانے جیسے عزائم کا اظہار کرے یا بین الاقوامی معاہدوں سے یکطرفہ انحراف کی کوشش کرے۔
‎حنا ربانی کھر نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے، جس میں کسی بھی قسم کی ترمیم یا تبدیلی صرف پاکستان اور بھارت کی باہمی رضامندی سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت بھارت کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ یکطرفہ طور پر اس معاہدے کو معطل کرے یا اسے ختم کرنے کا اعلان کرے۔
‎انہوں نے کہا کہ مستقل ثالثی عدالت بھی اپنے فیصلوں میں واضح کر چکی ہے کہ سندھ طاس معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان ایک قانونی اور پابند معاہدہ ہے، جسے کسی ایک فریق کی خواہش پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق اگر عالمی برادری نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کی اور بھارت کے طرز عمل کا نوٹس نہ لیا تو مستقبل میں دیگر ممالک بھی اسی طرز عمل کو اختیار کر سکتے ہیں، جس سے عالمی معاہدوں کی حیثیت اور بین الاقوامی نظام کی بنیادیں کمزور ہوں گی۔
‎سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ معاملہ صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ عالمی قانون، بین الاقوامی معاہدوں اور ریاستوں کے درمیان اعتماد کے نظام سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری کو اس حساس مسئلے پر ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ بین الاقوامی قوانین کی بالادستی برقرار رہے۔
‎حنا ربانی کھر نے اپنے دورِ وزارت خارجہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات کو معمول پر لانے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کی، تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بھارت کا رویہ اکثر اس راہ میں رکاوٹ بنتا رہا۔
‎انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ پانی کو تنازع کا ذریعہ بنانے کے بجائے تعاون، مشترکہ ترقی اور علاقائی استحکام کا وسیلہ بنایا جانا چاہیے، کیونکہ آبی وسائل پر تعاون ہی خطے میں پائیدار امن اور خوشحالی کی ضمانت بن سکتا ہے۔

More posts