کراچی میں لاوارث لاشوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے شہریوں اور سماجی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق رواں سال جنوری سے اب تک شہر کے مختلف علاقوں سے تقریباً 200 لاوارث لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں، جن میں 13 خواتین بھی شامل ہیں۔ ان میں سے بیشتر افراد کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی، جبکہ اموات کی وجوہات بھی واضح نہیں ہو سکیں۔
ایدھی فاؤنڈیشن کے اعداد و شمار کے مطابق یہ لاشیں شہر کے مختلف علاقوں سے ملی ہیں، جن میں فٹ پاتھ، دریا کے کنارے، ویران جھاڑیاں، خالی مکانات اور دیگر سنسان مقامات شامل ہیں۔ بیشتر لاشوں کے پاس کوئی شناختی دستاویز موجود نہیں تھی، جس کی وجہ سے ان کی شناخت میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
صرف جولائی کے ابتدائی چار روز کے دوران مزید تین مردوں کی لاشیں ملنے سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ فلاحی ادارے کا کہنا ہے کہ لاشوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ باعث تشویش ہے اور اس حوالے سے متعلقہ اداروں کی توجہ ناگزیر ہے۔
ایدھی حکام کے مطابق ابتدائی مشاہدات کی بنیاد پر بعض اموات کا تعلق ممکنہ طور پر منشیات کے استعمال سے ہو سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ اموات کی اصل وجوہات کا تعین صرف پوسٹ مارٹم، فرانزک تجزیے اور دیگر طبی معائنے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
دوسری جانب پولیس کی جانب سے اب تک ان لاوارث لاشوں کے حوالے سے کوئی جامع باضابطہ رپورٹ یا تفصیلی مؤقف سامنے نہیں آیا۔ نہ ہی یہ واضح کیا گیا ہے کہ کتنے کیسز میں تحقیقات جاری ہیں یا کتنی لاشوں کی شناخت ممکن ہو سکی ہے۔ اس صورتحال پر شہریوں اور سماجی تنظیموں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ لاوارث لاشوں کی شناخت، اموات کی وجوہات اور ممکنہ جرائم کی تحقیقات کے لیے مربوط حکمت عملی اختیار کی جائے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ لاوارث لاشوں کی بڑھتی ہوئی تعداد صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں ہی نہیں بلکہ صحت، سماجی بہبود اور منشیات کی روک تھام سے متعلق اداروں کے لیے بھی ایک اہم چیلنج ہے۔ ان کے مطابق مختلف اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ اور جدید فرانزک سہولیات کے استعمال سے نہ صرف متاثرہ افراد کی شناخت میں مدد مل سکتی ہے بلکہ اموات کی اصل وجوہات بھی سامنے لائی جا سکتی ہیں۔
کراچی میں لاوارث لاشوں کی تعداد تشویشناک، رواں سال تقریباً 200 لاشیں برآمد
