اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ان میڈیا رپورٹس کو مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل سے لبنان میں مبینہ "دہشت گردوں کی سرنگوں” کو نشانہ نہ بنانے کی درخواست کی تھی۔
کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ میڈیا میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے لبنان میں موجود سرنگوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا کہا، تاہم اس دعوے میں کوئی حقیقت نہیں۔ ان کے بقول یہ محض ایک افواہ اور جعلی خبر ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو نے کہا، "صدر ٹرمپ نے مجھ سے اس حوالے سے کوئی بات نہیں کی، نہ ہی میں نے ان سے اس بارے میں کوئی درخواست کی۔ اسرائیل اپنے قومی مفادات اور سیکیورٹی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرتا ہے اور ہماری کارروائیاں بھی انہی اصولوں کے مطابق ہوتی ہیں۔”
حالیہ دنوں مختلف میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکا خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈال رہا ہے تاکہ لبنان میں فوجی کارروائیوں سے گریز کیا جائے۔ تاہم نیتن یاہو کے تازہ بیان کے بعد ان خبروں کی تردید سامنے آ گئی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل اور لبنان کی سرحد پر کشیدگی بدستور برقرار ہے اور دونوں جانب سیکیورٹی خدشات موجود ہیں۔ ایسے حالات میں اسرائیلی حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ وہ اپنی قومی سلامتی سے متعلق فیصلے آزادانہ طور پر کرتی ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم کے بیان پر تاحال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یا وائٹ ہاؤس کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ خطے کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر امریکا، اسرائیل اور دیگر علاقائی ممالک کے درمیان سفارتی رابطے جاری رہنے کی توقع ہے۔
نیتن یاہو نے لبنان سے متعلق ٹرمپ کی درخواست کی خبروں کو مسترد کر دیا
