پاکستان نے توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کا ایک اور اسپاٹ کارگو خرید لیا ہے۔
پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) کے مطابق 15 سے 16 جولائی کے دوران سپلائی ہونے والے ایل این جی کارگو کے لیے بین الاقوامی سطح پر تین بولیاں موصول ہوئیں۔پی ایل ایل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ موصول ہونے والی بولیوں میں سب سے کم قیمت والی پیشکش کو کامیاب قرار دے کر منظور کر لیا گیا۔ ادارے کے مطابق سب سے کم بولی 18.23 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کے حساب سے موصول ہوئی، جبکہ دیگر دو بولیاں بالترتیب 18.59 ڈالر اور 18.72 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تھیں۔حکام کے مطابق کم ترین بولی کی منظوری سے ایل این جی کی درآمد نسبتاً کم لاگت پر ممکن ہوگی، جس سے ملک میں گیس کی طلب پوری کرنے اور توانائی کی فراہمی کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔
توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان وقتاً فوقتاً اسپاٹ مارکیٹ سے ایل این جی خریدتا ہے تاکہ مقامی گیس کی قلت پر قابو پایا جا سکے اور بجلی گھروں سمیت صنعتی و گھریلو صارفین کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ حالیہ خریداری بھی اسی حکمت عملی کا حصہ قرار دی جا رہی ہے۔
