پنجاب کے مختلف شہروں میں حالیہ بارش کے بعد نکاسیٔ آب کا نظام ایک بار پھر تنقید کی زد میں آ گیا۔ شہری علاقوں میں کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود متعدد مقامات پر برساتی پانی جمع رہا، جس کے باعث معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہوئے۔
ڈسکہ میں بارش کے تقریباً چھ گھنٹے بعد بھی سڑکوں سے پانی مکمل طور پر نہیں نکالا جا سکا۔ کئی شاہراہیں اور گلیاں زیرِ آب رہیں، جس سے شہریوں، دکانداروں اور مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
فیصل آباد میں بھی بارش کے سات گھنٹے بعد متعدد علاقوں میں پانی کھڑا رہا۔ مختلف سڑکیں، گلیاں اور رہائشی علاقے متاثر ہوئے، جبکہ کئی شہریوں کا کہنا تھا کہ پانی جمع ہونے کے باعث انہیں گھروں سے نکلنے میں دشواری پیش آئی۔
متاثرہ شہریوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ نکاسیٔ آب کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ معمول کی بارش بھی شہریوں کے لیے پریشانی کا باعث نہ بنے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر زیادہ شدت کی بارش ہوئی تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب نارووال کی تحصیل شکرگڑھ میں بارش کے دوران ایک کمسن بچہ برساتی نالے میں گر گیا۔ خوش قسمتی سے قریبی شہریوں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بچے کو بحفاظت باہر نکال لیا۔ واقعے کے بعد مقامی افراد نے نشیبی علاقوں میں حفاظتی اقدامات اور مؤثر نگرانی کا مطالبہ کیا۔
ماہرین کے مطابق مون سون کے موسم میں شہروں کے ڈرینج نظام کی بروقت صفائی، نالوں کی دیکھ بھال اور ہنگامی انتظامات شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہیں۔
بارش نے پنجاب کے کئی شہروں میں نکاسیٔ آب کے دعوؤں پر سوال اٹھا دیے
