امریکی افواج نے ایران پر دوبارہ حملے شروع کردئیے،امریکی سینٹ کام کے مطابق مختلف مقامات پر درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا،حملوں کامقصد آبنائے ہرمزمیں ایرانی صلاحیت کوکمزورکرناہے۔
امریکی سینٹ کام کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی فضائی دفاعی نظام، ساحلی ریڈار مراکز، میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کونشانہ بنایا،ایران کی چھوٹی بحری کشتیوں کو لڑاکا طیاروں، بحری جہازوں، ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیاایران کے خلاف نئی کارروائی مکمل کرلی گئی ہےآبنائے ہرمز انتہائی اہم عالمی تجارتی بحری گزرگاہ ہے ،ایران اس پر کنٹرول نہیں رکھتا،تجارتی جہازوں کی آزادانہ آمدورفت برقراررکھنے کویقینی بنانے کیلئے تیار ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ان امریکی حملوں کے بعد ایران کے اہم ساحلی شہر بندر عباس، جزیرہ قشم، سیرک اور جاسک میں انتہائی زوردار دھماکے سنے گئے امریکی فوج نے پہلی بار اس جنگ میں لڑاکا طیاروں اور بحری جہازوں کے ساتھ ساتھ ہوا اور سمندر میں خود ہی جا کر پھٹنے والے خودکش ڈرون طیاروں کا استعمال بھی کیا ہے جن کی مدد سے ایران کے فوجی ریڈاروں، میزائلوں، اور چھوٹی جنگی کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا-
ایران کے صوبے خوزستان کے ڈپٹی گورنر ولی اللہ حیاتی نے بتایا کہ امریکی فورسز نے ان کے صوبے کے8 مختلف مقامات پر رات کے اندھیرے میں بمباری کی ماہشہر کے علاقے میں کھیتوں کو پانی دینے والے ایک سرکاری واٹر پمپنگ اسٹیشن پر امریکی پروجیکٹائل لگنے سے وہاں موجود ایک چوکیدار جاں بحق ہو گیا ہے جبکہ چار دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
دوسری طرف، ایران نے بھی ان امریکی حملوں کا انتہائی سخت جواب دیتے ہوئے خطے کے ممالک میں موجود امریکی اڈوں پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کئے،ایران کی نیوز ایجنسی ’نور‘ کے مطابق، ایرانی فوج اور پاسدارانِ انقلاب نے خطے میں موجود ’”دشمن کے اڈوں“ پر بڑے پیمانے پر حملے کیے ہیں۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اپنے الگ الگ بیانات میں دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اردن کے ’پرنس حسن ایئربیس‘ پر میزائل داغ کر وہاں موجود امریکی تیل کے گوداموں اور بارود کے ذخائر کو آگ لگا دی ہے، جبکہ بحرین کے ’شیخ عیسیٰ ایئربیس‘ پر بھی حملہ کر کے امریکی فوج کے ہیلی کاپٹروں اور ڈرو ن کنٹرول روم کو نشانہ بنایا گیا ہے، ایران کے کویت پر حملے میں تین امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں، ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی بیلسٹک میزا ئل امریکی ’اے ٹی اے سی ایم ایس‘ میزائل سسٹم پر لگے جس میں تین امریکی فوجی مارے گئے۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے گزشتہ24گھنٹے کے دوران امریکا کے فوجی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے وحشیانہ حملے اقوام متحدہ کے منشورکی کھلی خلاف ورزی ہیں امریکی حملوں نے مغربی ایشیا میں امن بحالی کی کوششوں کونقصان پہنچایاہے،جنگ بندی معاہدہ کے صرف 25 روز بعد امریکا نےتمام اہم شقوں کی خلا ف ورزی کی،امریکا نے آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی سے متعلق ایران کے قانونی اقدامات میں بھی مداخلت کی۔
ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ امریکا نے بعض ممالک کی سرزمین استعمال کرکے انہیں غیر قانونی جنگ کا حصہ بنا دیا ،ایران حملے کے ذرائع اور مقامات ہمارے دفاعی حملوں کا جائز ہدف بن سکتے ہیں،مسقط مذاکرات سے متعلق امریکی صدر کے دعوے حقیقت کے منافی ہیں یواین سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل حملہ آوروں کا احتساب کریں،امریکی فوج کی غیر قانونی سرگرمیوں کے باعث آبنائے ہرمز کوبند کر دیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں آبنائے ہرمزسے بحری ٹریفک گزرنے سے متعلق امریکی نیوز ویب سائٹ نے حکام کے حوالے سے دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمزسے گزشتہ24گھنٹے میں 20تجارتی جہازامریکی فوج سے رابطہ کرکے گزرے،کئی جہاز امریکی فوج کے ساتھ رابطے کے بغیر بھی آبنائے ہرمز سے گزرے۔
