Baaghi TV

حاملہ خاتون کو زندہ جلانے کا الزام، شوہر اور پہلی بیوی کے خلاف قتل کا مقدمہ درج

‎شیخوپورہ کے علاقے الجلیل گارڈن میں پیش آنے والے دل دہلا دینے والے واقعے نے ہر آنکھ اشکبار کر دی، جہاں چھ ماہ کی حاملہ خاتون مبینہ طور پر آگ لگنے سے جاں بحق ہوگئی۔ مقتولہ کی والدہ کی مدعیت میں شوہر اور اس کی پہلی بیوی کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر کے پولیس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
‎پولیس میں درج ایف آئی آر کے مطابق تحسیم بی بی کی شادی تقریباً دو سال قبل حمزہ نامی شخص سے ہوئی تھی۔ درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ شوہر پہلے سے شادی شدہ تھا اور دونوں بیویوں کو ایک ہی گھر میں رکھا گیا تھا، جہاں تحسیم بی بی کو آئے روز گھریلو جھگڑوں، مبینہ تشدد اور ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اہل خانہ کے مطابق حالیہ دنوں میں شوہر کا رویہ مزید سخت ہوگیا تھا اور وہ اپنی حاملہ اہلیہ کو بھی مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بناتا تھا۔
‎درخواست کے مطابق واقعے کے روز شام تقریباً چار بجے مقتولہ نے اپنی والدہ کو فون کر کے بتایا کہ اسے دوبارہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ والدہ نے بیٹی کو دلاسہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اگلے روز آکر اسے ساتھ لے جائیں گی، تاہم یہی دونوں کے درمیان آخری گفتگو ثابت ہوئی۔
‎اسی رات تقریباً 11 بجے اہل خانہ کو اطلاع ملی کہ تحسیم بی بی آگ لگنے سے جاں بحق ہو گئی ہیں۔ والدہ اپنے بھائی اور دیگر عزیزوں کے ہمراہ جب الجلیل گارڈن پہنچیں تو انہوں نے اپنی بیٹی کی جھلسی ہوئی لاش گھر کے کچن میں دیکھی۔ اس افسوسناک واقعے میں نہ صرف ایک نوجوان خاتون کی جان چلی گئی بلکہ اس کے بطن میں موجود چھ ماہ کا بچہ بھی زندگی سے محروم ہو گیا۔
‎مقتولہ کی والدہ کی درخواست پر پولیس نے شوہر حمزہ اور اس کی پہلی بیوی سلمیٰ کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 302 اور 34 کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور شواہد کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

More posts