Baaghi TV

‎کراچی میں ایچ آئی وی سے متاثرہ خاندان امتیازی سلوک کا شکار، روزگار اور تعلیم بھی متاثر

aids hiv

‎کراچی میں ایچ آئی وی سے متاثرہ خاندانوں کو بیماری کے ساتھ ساتھ معاشرتی امتیازی سلوک اور سماجی رویوں کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ متاثرہ بچوں کے والدین کا کہنا ہے کہ نجی کمپنیوں نے انہیں ملازمتوں سے نکالنا شروع کر دیا ہے، جبکہ ایک متاثرہ بچی کو بھی ایچ آئی وی کی بنیاد پر اسکول سے نکال دیا گیا، جس سے خاندان شدید ذہنی اور معاشی مشکلات میں مبتلا ہے۔
‎متاثرہ بچوں کے والد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خاندان کو بیماری سے زیادہ معاشرے کے رویوں نے متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کو صرف ایچ آئی وی سے متاثر ہونے کی وجہ سے اسکول سے نکال دیا گیا، حالانکہ اسے تعلیم حاصل کرنے کا بنیادی حق حاصل ہے۔
‎انہوں نے بتایا کہ نجی کمپنیوں کی جانب سے بھی متاثرہ بچوں کے والدین کو ملازمتوں سے فارغ کیا جا رہا ہے، جس کے باعث خاندانوں کی آمدن متاثر ہوئی ہے اور روزمرہ اخراجات پورے کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پہلے ہی علاج اور دیگر ضروریات کے باعث مالی دباؤ کا شکار ہیں، ایسے میں روزگار سے محرومی نے مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔
‎متاثرہ والد نے کہا، "ہم بہت مشکل حالات سے گزر رہے ہیں، اللہ کسی دشمن کو بھی یہ بیماری نہ دے۔” انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی کہ ایچ آئی وی سے متاثرہ خاندانوں کو امتیازی سلوک سے تحفظ فراہم کیا جائے اور انہیں باعزت زندگی گزارنے کے مواقع دیے جائیں۔
‎انہوں نے یاد دلایا کہ صوبائی وزیر سعید غنی نے اس سے قبل متعلقہ اداروں اور نجی کمپنیوں سے اپیل کی تھی کہ ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد یا ان کے اہل خانہ کو ملازمتوں سے نہ نکالا جائے اور ان کے ساتھ امتیازی رویہ اختیار نہ کیا جائے، تاہم زمینی صورتحال اس کے برعکس نظر آ رہی ہے۔
‎ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی ایک قابلِ علاج دائمی بیماری ہے اور مناسب علاج کے ذریعے متاثرہ افراد معمول کی زندگی گزار سکتے ہیں۔ ان کے مطابق روزمرہ میل جول، ساتھ بیٹھنے، ہاتھ ملانے، کھانے پینے یا ایک ہی کلاس روم میں تعلیم حاصل کرنے سے ایچ آئی وی منتقل نہیں ہوتا، اس لیے متاثرہ افراد کے ساتھ امتیازی سلوک کی کوئی طبی یا سائنسی بنیاد نہیں ہے۔

More posts