Baaghi TV

مون سون کا دوسرا اسپیل:لاہور میں شدید بارش،130 سے زائد مقامات زیرِ آب

لاہور بارش سے متاثر، 130 سے زائد مقامات زیرِ آب

مون سون کے دوسرے اسپیل نے لاہور کو اپنی لپیٹ میں لے لیا چوبرجی، جین مندر، بورڈ آف ریونیو، لائبریری چوک، چرچ چوک، ڈلٹن، اک موریا، کشمیری گیٹ، شالیمار چوک، تحسین چوک، شاہدرہ چوک، ٹمبر مارکیٹ، لاری اڈا، سبزی منڈی، حاجی کیمپ، لکشمی چوک، قرطبہ چوک، مولا بخش چوک، قادری چوک، جوڑے پل، افشاں چوک، غازی روڈ، گجومتہ، عسکری 11، وطین چوک، پیراگون، پیر بہاشاہ چوک، چلڈرن ہسپتال، چونگی امرسدھو، جنرل ہسپتال، فردوس مارکیٹ، برکت مارکیٹ، فاطمہ میموریل ہسپتال، بگریاں اور کجلباش چوک سمیت 130 سے زائد مقامات پر بارشی پانی جمع ہونے سے ٹریفک شدید متاثر ہے۔

سی ٹی او لاہور سمیت تمام ٹریفک افسران و وارڈنز فیلڈ میں موجود ہیں،ٹریفک پولیس نے اپیل کی ہے کہ شہری غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور متبادل راستے اختیار کریں۔

دوسری جانب واسا لاہور کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر عبداللطیف نے کہا کہ مون سون سیزن کے لیے اس بار گزشتہ برس کے مقابلے میں کہیں بہتر تیاریاں کی گئی ہیں اور اگر شہر میں کہیں بھی بارش کا پانی جمع ہوتا ہے تو واسا کا ہدف ایک گھنٹے کے اندر اسے نکالنا ہے، واسا نے نئی مشینری خریدی ہے متعدد ری چارج ویلز نصب کیے گئے ہیں جبکہ لاہور میں موجود تقریباً 3 ہزار کلومیٹر طویل سیوریج لائنوں کی مکمل صفائی کی جا چکی ہے، اس کے علاوہ شہر کی 7 بڑی ڈرینز، جن کی مجمو عی لمبائی 94 کلومیٹر ہے ان کی صفائی کا عمل 3 مرتبہ مکمل کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لاہور میں 100 سے 150 ملی میٹر تک بارش بھی ہو جائے تو واسا ایک گھنٹے کے اندر شہر کی اہم سڑکوں سے پانی نکالنے کی صلاحیت رکھتا ہے جہاں بھی بارش کا پانی جمع ہوگا اسے ایک گھنٹے کے اندر کلیئر کرنے کی کوشش کی جائے گی،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر صوبے بھر کے لیے تقریباً 700 نئی مشینیں خریدی گئی ہیں جن میں واسا کے ٹرک، سکر مشینیں اور ٹریکٹرز شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہی وسائل کی بدولت اس سال مون سون کی تیاریاں گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ مؤثر اور جامع ہیں۔

عبد اللطیف کے مطابق لاہور میں تقریباً 18 ری چارج ویلز بھی تعمیر کیے گئے ہیں۔ یہ کنویں ان مقامات پر بنائے گئے ہیں جہاں ماضی میں بارش کا پانی کھڑا رہتا تھا اب بارش کا پانی ان ری چارج ویلز میں جمع ہو کر قدرتی انداز میں فلٹر ہوتا ہے اور بعد ازاں پارکس اور گرین بیلٹس کی آبپاشی سمیت دیگر مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، ری چارج ویلز میں سیوریج کا پانی شامل نہیں ہوتا، اسی لیے یہ کنویں صرف ان مقامات پر تعمیر کیے گئے ہیں جہاں سیوریج کے پانی کے ملنے کا کوئی خدشہ موجود نہیں۔

More posts