مقبوضہ مشرقی القدس کے شمال میں واقع قلندیہ پناہ گزین کیمپ میں اسرائیلی فوج نے اقوام متحدہ کے فلسطینی پناہ گزینوں کے ادارے یو این آر ڈبلیو اے (UNRWA) کے تربیتی مرکز پر چھاپہ مار کر عملے کے متعدد ارکان کو حراست میں لے لیا۔
مقامی حکام کے مطابق اسرائیلی فوجی مرکز میں زبردستی داخل ہوئے، آنسو گیس کے شیل فائر کیے اور وہاں موجود عملے کو ایک ہال میں جمع کرکے حراست میں رکھا۔ کارروائی کے دوران کیمپ کے مختلف حصوں میں بھی سکیورٹی آپریشن جاری رہا، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
یروشلم گورنریٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی فوج نے رات گئے قلندیہ پناہ گزین کیمپ پر چھاپہ مارا، اس دوران اسٹن گرینیڈ اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں ایک مقام پر آگ بھی بھڑک اٹھی۔
یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند ہفتے قبل یروشلم گورنریٹ نے خبردار کیا تھا کہ اسرائیلی حکام قلندیہ میں واقع یو این آر ڈبلیو اے کے تربیتی مرکز کو مسمار کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔
دوسری جانب فلسطینی ادارہ کالونائزیشن اینڈ وال ریزسٹنس کمیشن کے مطابق رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران اسرائیلی حکام نے 341 انہدامی کارروائیاں کیں، جن میں 740 عمارتیں منہدم ہوئیں، جبکہ ان اقدامات سے کم از کم 923 فلسطینی متاثر ہوئے۔
ادھر غزہ کی پٹی کے وسطی شہر دیر البلح میں بھی اسرائیلی حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق بے گھر فلسطینیوں کی پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہونے والے یو این آر ڈبلیو اے کے ایک اسکول کے باہر شہریوں کے ایک گروپ کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہو گئے۔
مقامی ذرائع کے مطابق زخمیوں میں ایک ایسا شخص بھی شامل ہے جو وہیل چیئر استعمال کر رہا تھا اور پہلے ہی ایک سابقہ اسرائیلی فضائی حملے میں اپنی دونوں ٹانگیں کھو چکا تھا۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے دعوؤں کے باوجود غزہ کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی کارروائیاں جاری ہیں۔ فلسطینی شہریوں کا کہنا ہے کہ حملے اکثر بغیر کسی پیشگی انتباہ کے کیے جاتے ہیں، جس کے باعث عام شہری مسلسل خوف اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔
مشرقی القدس میں اسرائیلی فوج کا یو این آر ڈبلیو اے مرکز پر چھاپہ، عملہ حراست میں
