وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اسلام آباد میں ملک بھر میں جاری مون سون بارشوں اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیراعظم نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار رہیں اور قومی و صوبائی اداروں کے درمیان مسلسل رابطہ برقرار رکھا جائے۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (پی ڈی ایم ایز) اور صوبائی حکومتیں باہمی تعاون کے ساتھ کام کریں۔ انہوں نے این ڈی ایم اے کو ہدایت دی کہ مون سون کی صورتحال اور متوقع بارشوں سے متعلق بروقت معلومات تمام وفاقی اور صوبائی اداروں تک پہنچائی جائیں تاکہ بروقت حفاظتی اقدامات کیے جا سکیں۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی روزانہ فلڈ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کریں گے اور موجودہ صورتحال کا جائزہ لے کر آئندہ کے لائحہ عمل کا تعین کریں گے۔ وزیراعظم نے شمالی علاقوں میں گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے اور گلیشیائی سیلاب کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ارلی وارننگ سسٹم کو ہر وقت فعال رکھنے کی بھی ہدایت کی۔
اپنے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کا عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے، اس کے باوجود موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات ملک کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے قلیل، درمیانی اور طویل المدتی منصوبوں پر تیزی سے کام کر رہی ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ موجودہ مون سون سیزن کے دوران اب تک 110 افراد جاں بحق، 360 زخمی ہوئے ہیں، جبکہ 796 مکانات کو نقصان پہنچا اور 376 مویشی ہلاک ہو چکے ہیں۔ چیف سیکریٹریز نے چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں حالیہ بارشوں، نقصانات اور امدادی سرگرمیوں پر بریفنگ دی۔
این ڈی ایم اے نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ شمالی علاقوں میں سیلابی صورتحال اور سندھ و بلوچستان میں شدید گرمی کی لہر کے پیش نظر تمام ممکنہ وسائل صوبائی حکومتوں کو فراہم کیے جا رہے ہیں۔ آئندہ دو روز کے دوران آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور جنوبی سندھ میں شدید بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے، جبکہ ستمبر کے دوسرے ہفتے سے ملک کے بیشتر علاقوں میں مون سون کی ایک اور طاقتور لہر آنے کا امکان ظاہر کیا گیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ عالمی سطح پر جاری ایل نینو کے باعث شمالی پاکستان میں گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس سے آئندہ ماہ گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور اچانک سیلاب آنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ حساس علاقوں کی نشاندہی کرکے حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ لاہور سمیت وسطی پنجاب میں شہری سیلاب سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کیے گئے ہیں، جبکہ برساتی نالوں میں طغیانی کے باعث زیر آب آنے والی زرعی زمینوں سے پانی کی نکاسی کا کام جاری ہے۔ ڈیرہ غازی خان اور ملحقہ علاقوں میں سیلابی صورتحال اس وقت قابو میں ہے۔
نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے اجلاس کو بتایا کہ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند ہونے والی 106 شاہراہیں بروقت کارروائی کے ذریعے بحال کر دی گئی ہیں۔ وزارت آئی ٹی کی جانب سے نیشنل ایمرجنسی ٹیلی کمیونی کیشن سینٹر بھی فعال کر دیا گیا ہے، جہاں کسی بھی موبائل فون سے مدد کی کال موصول ہونے پر ریسکیو 1122 فوری طور پر متحرک ہو جاتا ہے۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ مون سون کے دوران ملک بھر میں 700 مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں بارش کا پانی ذخیرہ کیا جائے گا تاکہ خشک موسم میں اسے زرعی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم ایز، صوبائی حکومتوں اور تمام متعلقہ اداروں کی بروقت تیاریوں، پیشگی اطلاعات اور امدادی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
وزیراعظم کی مون سون اور سیلابی صورتحال پر ہنگامی ہدایات
