Baaghi TV

بحری تجارت کے لیے بڑی کامیابی،پاکستان کو ایک دہائی بعد لائیڈز کی وار رسک فہرست سے نکال دیا گیا

اسلام آباد: پاکستان کے بحری شعبے اور قومی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ لندن میں قائم لائیڈز جوائنٹ وار کمیٹی نے 29 جولائی 2026 کو جاری کیے گئے سرکلر JWLA-034 کے ذریعے پاکستان کو باضابطہ طور پر Hull War, Piracy, Terrorism and Related Perils Listed Areas کی فہرست سے خارج کر دیا ہے۔

اس فیصلے کے بعد پاکستانی بندرگاہوں پر آنے والے بحری جہازوں پر عائد اضافی وار رسک انشورنس ختم ہو جائے گی، جو گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے لاگو تھی۔ ماہرین کے مطابق اس اقدام سے شپنگ اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی، جبکہ کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر بندرگاہوں کی عالمی سطح پر مسابقتی حیثیت مزید مستحکم ہوگی۔

یہ کامیابی مربوط قومی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ اس سلسلے میں پاک بحریہ کے سربراہ چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے برطانیہ کے سرکاری دورے کے دوران 14 جولائی 2026 کو لندن میں جوائنٹ وار کمیٹی (JWC)، لائیڈز مارکیٹ ایسوسی ایشن (LMA) اور دیگر اہم متعلقہ اداروں کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں انہوں نے پاکستان کی بحری سلامتی، بندرگاہی انتظامات اور خطے میں استحکام سے متعلق پاکستان کا جامع مؤقف پیش کیا، جسے اس تاریخی فیصلے میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو وار رسک فہرست سے نکالے جانے کے بعد نہ صرف بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں کے لیے پاکستانی بندرگاہوں تک رسائی کم لاگت پر ممکن ہوگی بلکہ ملکی درآمدات و برآمدات، سرمایہ کاری اور بحری تجارت کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔اس پیش رفت کو پاکستان کے بحری تحفظ پر عالمی اعتماد کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے، جو اس بات کا واضح پیغام ہے کہ پاکستان بین الاقوامی تجارت کے لیے ایک محفوظ، کھلا اور مسابقتی بحری مرکز بن کر ابھر رہا ہے۔

وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان لائیڈز جوائنٹ وار کمیٹی کے لسٹڈ ایریاز سے نکل گیا،وزیر بحری امور کی قیادت میں قائم کمیٹی کی چار مہینوں کی کوششیں رنگ لے آئیں،وزیر اعظم کی ھدایت پر کمیٹی قائم کی گئی تھی،پاکستان کی سمندری حدود کو لسٹڈ ایریاز سے نکالنا تاریخی کامیابی ہے،وزیراعظم کے وژن اور فیلڈ مارشل کی رہنمائی میں کامیابی ملی،شپنگ لائنز پر عائد وار رسک انشورنس پریمیم اور اضافی سرچارج ختم ہوں گے،شپنگ اخراجات کم ہونے سے درآمدات اور برآمدات کو فائدہ ہوگا، عالمی شپنگ کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا، کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر پورٹس کی اہمیت مزید بڑھے گی، علاقائی تجارت اور کارگو ٹرانزٹ کے نئے مواقع پیدا ہوں گے،

More posts