افغانستان کے صوبہ ہلمند میں طالبان کی اخلاقی پولیس نے خواتین کے لباس سے متعلق ضوابط پر عمل درآمد مزید سخت کر دیا ہے، جہاں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران مبینہ طور پر 10 سے زائد خواتین کو مقررہ حجاب اور لباس کے قواعد کی خلاف ورزی کے الزام میں حراست میں لے لیا گیا۔
مقامی رہائشیوں نے بتایا کہ زیادہ تر گرفتاریاں ہلمند کے دارالحکومت لشکر گاہ کے علاقے کارتے لگان میں قائم خواتین کی مارکیٹ کے اطراف کی گئیں،ان کارروائیوں کے باعث خواتین میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے جبکہ مارکیٹ کی کاروباری سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہوئی ہیں۔
ہلمند کے رہائشی نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران 10 سے زائد خواتین کو طالبان کے مقرر کردہ حجاب اور لباس کے ضوابط پر عمل نہ کرنے یا وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے اہلکاروں کی ہدایات نہ ماننے کے الزام میں حراست میں لیا گیا،گرفتاری کے خدشے کے باعث اب بہت سی خواتین مارکیٹ جانے سے گریز کر رہی ہیں،گزشتہ دو روز کے دوران بھی متعدد خواتین کو اسی مارکیٹ سے مبینہ طور پر مناسب حجاب نہ پہننے اور کسی محرم مرد کے بغیر سفر کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ خواتین کی مارکیٹ کے قریب ایک خاتون اور طالبان کی اخلاقی پولیس کے اہلکار کے درمیان جھڑپ بھی پیش آئی،خاتون گاڑی سے اتر کر مارکیٹ میں داخل ہونا چاہتی تھیں لیکن اہلکار نے انہیں روک لیااہلکار نے خاتون کا ہاتھ پکڑا جس پر انہوں نے اپنے جوتے سے اہلکار کو مارا، جس کے بعد دونوں کے درمیان ہاتھا پائی شروع ہوگئی۔ بعد ازاں متعدد شہریوں نے مداخلت کر کے معاملہ ختم کرایا۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد طالبان کی اخلاقی پولیس نے مارکیٹ میں خواتین کی نگرانی، تلاشی اور پوچھ گچھ میں مزید اضافہ کر دیا اور پابندیاں مزید سخت کر دیں،اب بہت سی خواتین گرفتاری سے بچنے کے لیے خود بازار جانے کے بجائے خریداری کی ذمہ داری اپنے مرد رشتہ داروں کو سونپ رہی ہیں۔
دوسری جانب خواتین کی مارکیٹ کے تاجروں نے بتایا کہ طالبان کی سخت پابندیوں کے باعث گاہکوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے اور کاروبار تقریباً ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے،فروخت میں شدید کمی کے باعث متعدد دکاندار کرایہ ادا کرنے سے بھی قاصر ہیں،اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو انہیں اپنی دکانیں بند کرنا پڑیں گی۔
طالبان حکام نے ہلمند میں خواتین کی مبینہ گرفتاریوں سے متعلق ان اطلاعات پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا ہے۔
