Baaghi TV

ایف آئی اے کاغیر ملکیوں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، 284 افراد ملک بدر

اسلام آباد:ڈی جی ایف آئی اے عثمان انور کی ہدایت پر غیر ملکیوں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، 284 افراد ملک بدر،ملزمان مبینہ طور پر لڑکیوں کی جعلی شناخت بنا کر پاکستانیوں کو سرمایہ کاری کے نام پر لوٹتے تھے، سہولت کاروں اور ہینڈلرز کا بھی سراغ مل گیا

ڈائریکٹر جنرل وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) عثمان انور کی خصوصی ہدایت پر آن لائن فراڈ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں مبینہ طور پر ملوث غیر ملکیوں کے خلاف بڑے کریک ڈاؤن کے بعد گرفتار کیے گئے 284 افراد کو پاکستان سے فوری طور پر ملک بدر کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے ڈی جی ایف آئی اے نے آپریشن، تحقیقات اور قانونی کارروائی کے لیے متعدد خصوصی ٹیمیں تشکیل دی تھیں، جنہوں نے دن رات کام کرتے ہوئے گرفتار غیر ملکیوں کے قانونی، سفری اور انتظامی کوائف ہنگامی بنیادوں پر مکمل کیے۔

ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے عثمان انور نےمیڈیا نمائندےسے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گرفتار افراد میں سے بیشتر مبینہ طور پر مختلف موبائل ایپلی کیشنز اور آن لائن پلیٹ فارمز پر لڑکیوں کی جعلی شناخت بنا کر پاکستانی شہریوں سے رابطے کرتے تھے اعتماد حاصل کرنے کے بعد انہیں مختلف کاروباری اور سرمایہ کاری اسکیموں میں بھاری منافع کا لالچ دیا جاتا اور بعدازاں ان سے رقوم ہتھیا لی جاتی تھیں۔

ڈی جی ایف آئی اے کے مطابق اس منظم طریقۂ واردات کے ذریعے متعدد پاکستانی شہریوں کو مالی نقصان پہنچایا گیا ایسے فراڈ میں ملوث بہت سے غیر ملکیوں کو شواہد اور تکنیکی معلومات کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ متاثرہ پاکستانی شہریوں اور لوٹی گئی رقوم سے متعلق مزید تفصیلات بھی تحقیقات کے دوران سامنے آ رہی ہیں۔

Exit Permit FIA 581-2026-2

عثمان انور نے کہا کہ تحقیقات میں انتہائی تشویش ناک اور بھیانک حقائق منظر عام پر آ رہے ہیں۔ ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزمان منظم گروہوں کی صورت میں کام کرتے تھے اور ان کے پیچھے موجود متعدد مقامی سہولت کاروں اور ہینڈلرز کا بھی سراغ لگا لیا گیا ہے۔ بعض سرکاری محکموں سے وابستہ افراد یا افسران کی ممکنہ معاونت اور پشت پناہی کے پہلو کی بھی چھان بین کی جا رہی ہے، تاہم کسی شخص یا ادارے کی ذمہ داری کا حتمی تعین مکمل تحقیقات اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

ایف آئی اے کی خصوصی ٹیموں نے کارروائی مکمل کرنے کے بعد وزارتِ داخلہ سے رابطہ کرکے گرفتار غیر ملکیوں کے ویزے منسوخ کرائے اور ان کی ملک بدری کے لیے ون ٹائم ایگزٹ پرمٹ جاری کروائے۔ وزارتِ داخلہ نے تمام 284 افراد کو آئندہ 15 روز کے اندر پاکستان چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ غیر ملکی اسلام آباد کے علاقے گلبرگ گرینز میں واقع اسپارکو پلازا میں ایف آئی اے کے بڑے آپریشن کے دوران گرفتار کیے گئے تھے۔ ڈی جی ایف آئی اے عثمان انور نے کارروائی کی براہِ راست نگرانی کرتے ہوئے متعلقہ ٹیموں کو ہدایت کی کہ گرفتار افراد کے خلاف قانونی کارروائی اور ان کی ملک بدری کا عمل بلا تاخیر مکمل کیا جائے۔

وزارتِ داخلہ و انسدادِ منشیات کی جانب سے 14 اگست 2026 کو جاری کیے گئے مراسلے نمبر 5/2/2024-Visa کے مطابق یہ احکامات ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل اسلام آباد کے مقدمہ نمبر 581/2026 کے سلسلے میں جاری کیے گئے ہیں۔ مراسلے میں ایف آئی اے اسلام آباد زون کے 13 اگست 2026 کے خط نمبر DIZ/MISC/2026/1579 کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔

سرکاری دستاویز کے مطابق تمام 284 غیر ملکیوں کے موجودہ ویزے منسوخ کرکے انہیں ایک مرتبہ پاکستان سے نکلنے کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ افراد درست سفری دستاویزات اور دیگر ضروری قانونی کارروائی کی تکمیل کے بعد 15 روز کے اندر پاکستان سے روانہ کیے جائیں گے۔

وزارتِ داخلہ کی فہرست میں تمام غیر ملکیوں کے نام، پاسپورٹ نمبر، ویزا کیٹیگری اور قومیت درج ہے۔ گرفتار افراد میں اکثریت ویتنام، انڈونیشیا اور چین کے شہریوں کی ہے، جبکہ چند افراد کا تعلق دیگر ممالک سے بھی ہے۔ بیشتر غیر ملکی سیاحتی یا وزٹ ویزوں پر پاکستان آئے تھے۔

وزارتِ داخلہ نے ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کو ہدایت کی ہے کہ ان افراد کی روانگی کے فوراً بعد ان کے نام بلیک لسٹ اور فارنرز کنٹرول لسٹ میں شامل کیے جائیں، تاکہ انہیں مستقبل میں دوبارہ پاکستان کا ویزا جاری نہ کیا جا سکے۔

ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ آن لائن مالی جرائم میں ملوث غیر ملکیوں، ان کے مقامی سہولت کاروں اور ہینڈلرز کے خلاف تحقیقات جاری رہیں گی۔ جرم میں مدد فراہم کرنے والے کسی بھی شخص کے ساتھ اس کے عہدے یا حیثیت سے قطع نظر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

More posts