کراچی: سی ٹی ڈی اور وفاقی حساس ادارے نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے یومِ آزادی کے اسٹال پر فائرنگ میں ملوث تین مبینہ دہشتگردوں کو گرفتار کرلیا۔
ذرائع کے مطابق 12 اگست کو ڈیفنس فیز 2 کے سن سیٹ بولیوارڈ پر یومِ آزادی کے اسٹال پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا، جس کے نتیجے میں قومی پرچم، جھنڈیاں اور بیجز فروخت کرنے والا 35 سالہ امان جاں بحق ہوگیا تھا۔ ملزمان کے قبضے سے 3 ہینڈ گرنیڈ اور ایک پستول برآمد ہوا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں نے مقتول امن کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ اپنی بیوی اور بچوں کے ہمراہ موجود تھا۔ واقعے کے بعد سی ٹی ڈی اور وفاقی حساس ادارے نے تحقیقات کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں تینوں مبینہ ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا،ملزمان کا کالعدم سندھودیش ریوولوشنری آرمی (SRA) س ہے
12 اگست کی رات تقریباً ساڑھے 11 بجے ڈیفنس فیز ٹو میں سن سیٹ بلیوارڈ پر شیل پمپ کے قریب پاکستانی پرچم، جھنڈیوں اور بیجز کے اسٹال پر فائرنگ کی گئی۔ فائرنگ کے نتیجے میں اسٹال پر کام کرنے والا 35 سالہ امان ولد جاوید شدید زخمی ہوگیا، جسے جناح اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا۔تحقیقات کے مطابق امان نے اگست کے آغاز سے یومِ آزادی کے سامان کا اسٹال لگا رکھا تھا اور روزگار کے لیے پرچم، جھنڈیاں اور بیجز فروخت کررہا تھا۔حکام کے مطابق 18 اگست کو مارخور سے ملنے والی خفیہ اطلاع پر سی ٹی ڈی نے کورنگی انڈسٹریل ایریا میں کازوے ریور کے قریب کارروائی کرتے ہوئے تین مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کیا۔ گرفتار افراد کی شناخت ظفرعلی ولد عبدالرؤف، فراز ولد محمد اسماعیل اور سجاد احمد ولد بشیر احمد کے نام سے ہوئی ہے۔ ملزمان کے قبضے سے تین دستی بم اور ایک پستول بھی برآمد کیا گیا۔
ابتدائی تفتیش میں ملزمان نے کالعدم سندھودیش ریوولوشنری آرمی سے وابستگی کا انکشاف کیا۔ تفتیشی حکام کے مطابق ملزمان کو بیرونِ ملک موجود ایس آر اے کے مبینہ آپریٹو ارسلان شاہ نے کراچی بھر میں یومِ آزادی کے اسٹالز کی ریکی اور ان میں سے ایک اسٹال کو نشانہ بنانے کا ٹاسک دیا تھا۔تفتیش کے مطابق سجاد احمد ملاح نے 3 اگست سے کراچی کے مختلف یومِ آزادی اسٹالز کی ریکی شروع کی اور 11 اگست کو ڈیفنس فیز ٹو کے اسٹال کو ہدف بنانے کا فیصلہ کیا۔ 12 اگست کی رات سجاد 125 سی سی موٹر سائیکل پر موقع پر پہنچا جبکہ ظفر اور فراز دوسری موٹر سائیکل پر اس کے پیچھے آئے۔ سجاد نے اسٹال پر موجود امان پر فائرنگ کی اور دونوں ساتھیوں کے ہمراہ فرار ہوگیا۔ملزمان نے دورانِ تفتیش یہ بھی بتایا کہ 14 اگست سے قبل کراچی میں خوف و ہراس پھیلانے کے لیے انہیں بیرونِ ملک سے مالی معاونت فراہم کی گئی۔
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان سے مزید پوچھ گچھ جاری ہے جبکہ ان کے ممکنہ سہولت کاروں، بیرونِ ملک رابطوں، مالی معاونت کے ذرائع، اسلحہ اور بارودی مواد کی فراہمی کے نیٹ ورک سمیت دیگر جرائم اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں ممکنہ ملوث ہونے کی بھی تحقیقات کی جارہی ہیں۔
