نئی دہلی میں بھارتی حکام نے پاکستانی ہائی کمیشن کی سکیورٹی ہٹا دی۔
بھارتی حکام نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے باہر موجود قطار لگانے والی ریلنگ یکطرفہ طور پر ہٹا دی اور وہاں ٹریفک کے لیے نصب حفاظتی ستون بھی ہٹا دیے گئے ہیں،پاکستانی ویزا سیکشن کے باہر قطاروں کے لیے لگا احاطہ بھی توڑ دیا گیا ہے، بھارتی حکام نے پاکستانی ہائی کمیشن کی سیکیورٹی ہٹانے کی وجہ نہیں بتائی ہے۔
ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تعلقات باہمی عمل اور مساوات کے اصول پر مبنی ہیں تاہم بھارت کی جانب سے پاکستانی ہائی کمیشن کے باہر ریلنگ ہٹانے کا اقدام یکطرفہ ہے،بھارتی میڈیا کے مطابق کشمیر سے متعلق امریکی سفیر کے بیان پر پاکستانی احتجاج کے بعد یہ کارروائی کی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا جسے بھارتی اقدام کے جواز کے طور پر پیش کیا جا سکے، بھارتی پریس کی جانب سے اس معاملے پر کی جانے والی رپورٹنگ بھی حقائق کے برعکس ہےاسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہر پاکستانی جانب سے جوابی اقدام کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔
گزشتہ روز پاکستان نے امریکی ناظم الامور کو دفترِ خارجہ طلب کر کے ڈیمارش کیا تھا،دفترِ خارجہ کے اعلامیے کے مطابق امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر کو طلب کر کے بھارت میں امریکی سفیر کے غیر ذمے دارانہ اور حقائق کے منافی ریمارکس پر شدید احتجاج کیا گیا امریکی ناظم الامور سے کہا گیا کہ مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دینے کے امریکی سفیر کے بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔
