پاکستان نے عالمی بحری تنظیم کے سیکریٹری جنرل آرسینیو ڈومنگیز سے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
پیر کے روز سینیٹر اسحاق ڈار نے عالمی بحری تنظیم کے سیکریٹری جنرل آرسینیو ڈومنگیز سے ملاقات کی، جس میں بحری شعبے سے متعلق امور، پاکستان اور عالمی بحری تنظیم کے درمیان تعاون اور پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے معاملے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا،انہوں نے عالمی بحری تنظیم کے ساتھ پاکستان کی دیرینہ وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے محفوظ، مؤثر اور منظم بین الاقوامی بحری نقل و حمل کے حوالے سے تنظیم کے کردار کو سراہا۔
اسحاق ڈار نے ایم ٹی آنر 25 پر زیر حراست 10 پاکستانی ملاحوں کی محفوظ رہائی کے لیے جاری کوششوں میں عالمی بحری تنظیم کے سیکریٹری جنرل کی حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا، انہوں نے زور دیا کہ تمام پاکستانی ملاحوں کی جلد اور بحفاظت واپسی کے لیے مؤثر اور فوری ادارہ جاتی مداخلت کی ضرورت ہے۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اپنے بحری نظام کی حکمرانی کو مزید مضبوط بنانے، عالمی بحری معیارات پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے اور ملکی بحری معیشت کو مزید ترقی دینے کے لیے مسلسل اقدامات کررہا ہےملاقات میں پاکستان اور عالمی بحری تنظیم کے درمیان بحری تحفظ، سلامتی، ضابطہ جاتی اصلاحات اور پاکستان کے بحری شعبے کی ترقی سمیت مختلف امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں جانب سے بحری شعبے میں باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر اتفاق کیا گیا، اس موقع پر پاکستان نے عالمی بحری تنظیم کے ساتھ تعاون جا ر ی رکھنے اور بین الاقوامی بحری معیارات کے مطابق ملکی بحری شعبے کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
وزارت خارجہ کے مطابق ملاقات میں پاکستانی ملاحوں کی محفوظ رہائی کا معاملہ بھی خصوصی اہمیت کا حامل رہا اور نائب وزیراعظم نے اس حوالے سے عالمی بحری تنظیم کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے تمام ملاحوں کی جلد واپسی کیلئے مؤثر اقدامات پر زور دیا۔
