Baaghi TV

جنوبی امریکا میں دیوہیکل بکتر بند مخلوق کی نئی نسل دریافت

ماہرینِ حیاتیات نے جنوبی امریکا میں پائی جانے والی دیوہیکل بکتر بند مخلوق کی ایک نئی نسل دریافت کرلی

ڈنمارک کے نیچرل ہسٹری میوزیم میں 19ویں صدی سے محفوظ ایک نامکمل فوسل کھوپڑی کے نئے سائنسی تجزیے سے گلیپٹوڈونٹ کی ایک غیر شناخت شدہ نسل سامنے آگئی ہے، جسے Glyptotherium deuterophractum کا نام دیا گیا ہے۔

تحقیق کے مطابق یہ نئی نسل تقریباً 60 ہزار سے 17 ہزار سال قبل جنوبی امریکا میں موجود تھی اور اس کا پھیلاؤ برازیل سے وینزویلا تک تھا۔ گلیپٹوڈونٹ دیوہیکل اور سخت بکتر سے ڈھکے ایسے قدیم جانور تھے جو موجودہ دور کے آرمڈیلو کے رشتہ دار سمجھے جاتے ہیں، جبکہ ان میں سے بعض کا حجم ایک چھوٹی گاڑی جتنا ہوتا تھا۔

اس نئی نسل کی بنیادی فوسل کھوپڑی ڈنمارک کے ماہرِ قدرتی تاریخ پیٹر ولہلم لُنڈ نے 19ویں صدی میں برازیل کی مشہور لاگوآ سانتا غاروں سے دریافت کی تھی۔ بعد میں 1875 میں ڈینش سائنس دان جوہانس رائن ہارٹ نے اسے ایک دوسری نسل سے منسوب کردیا تھا۔

حالیہ تحقیق میں ماہرین نے کھوپڑی، دانتوں، ٹخنے کی ہڈیوں اور بکتر کی ہڈیوں کا برازیل اور وینزویلا سے ملنے والے فوسلز کے ساتھ تقابلی جائزہ لیا۔ ماہرین کے مطابق جسمانی ساخت میں نمایاں فرق کی بنیاد پر یہ جانور ایک الگ نسل قرار دینے کے لیے کافی منفرد تھا۔

تحقیق کے مطابق Glyptotherium deuterophractum برازیل کی متعدد ریاستوں سمیت شمالی جنوبی امریکا اور وینزویلا کے علاقے فالکون میں بھی پایا جاتا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے ظاہر ہوتا ہے کہ عجائب گھروں میں کئی دہائیوں سے محفوظ قدیم فوسلز میں اب بھی اہم سائنسی دریافتیں پوشیدہ ہوسکتی ہیں اور پرانی درجہ بندیوں پر نظرثانی سے ماضی کی حیاتیاتی تنوع کے بارے میں نئی معلومات سامنے آسکتی ہیں۔

یہ تحقیق رواں ماہ Journal of Mammalian Evolution میں شائع ہوئی۔

More posts