Baaghi TV

ناسا کا نیا ٹیلی اسکوپ خلا میں روانہ

tech

ناسا کی جدید ’’نینسی گریس رومن اسپیس ٹیلی اسکوپ‘‘ کامیابی سے خلا میں روانہ ہوگئی ہے، جہاں یہ دور دراز کہکشاؤں، نئے سیاروں اور کائنات کی ساخت سے متعلق اہم سوالات کا جائزہ لے گی۔

رومن اسپیس ٹیلی اسکوپ کو اسپیس ایکس کے فالکن ہیوی راکٹ کے ذریعے امریکا کی ریاست فلوریڈا میں ناسا کے کینیڈی اسپیس سینٹر کے لانچ کمپلیکس 39A سے روانہ کیا گیا، راکٹ نے تقریباً 4 بج کر 57 منٹ پر پرواز کی اور اس کے ساتھ رومن ٹیلی اسکوپ نے بھی زمین سے اپنے طویل خلائی سفر کا آغاز کردیا۔

یہ مشن ناسا کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ رومن دوربین کا مقصد صرف کسی ایک ستارے، سیارے یا کہکشاں کو تفصیل سے دیکھنا نہیں بلکہ آسمان کے انتہائی وسیع حصے کا سروے کرنا ہے اس کے ذریعے سائنس دان کائنات کی ایک بڑی تصویر تیار کرنے کی کوشش کریں گے۔

رومن ٹیلی اسکوپ کا اگلا اہم مرحلہ سورج اور زمین کے درمیان موجود دوسرے لاغرینج پوائنٹ تک پہنچنا ہے، جسے ’ایل ٹو‘ کہا جاتا ہےیہ مقام زمین سے تقریباً 15 لاکھ کلومیٹر دور ہے عام سیٹلائٹس کی طرح زمین کے گرد چکر لگانے کے بجائے رومن ٹیلی اسکوپ زمین کے گرد گردش نہیں کرے گی بلکہ سورج اور زمین کے اس مخصوص خطے کے گرد اپنے مقررہ مدار میں کام کرے گی۔

‘ایل ٹو‘ کے مقام کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہاں سے دوربین کو کائنات کا نسبتاً وسیع اور کم رکاوٹ والا منظر مل سکے گا رومن کو اس مقام تک پہنچنے میں تقریباً ایک ماہ لگنے کی توقع ہےوہاں پہنچنے کے بعد دوربین اپنے اندر موجود نظامِ حرکت کی مدد سے ضروری سمت اور مدار میں آنے کے لیے مختلف مراحل مکمل کرے گی۔

تاہم ’ایل ٹو‘ تک پہنچ جانا اس مشن کا اختتام نہیں ہوگا ناسا کے مطابق دوربین کو سائنسی مشاہدات شروع کرنے سے پہلے تقریباً تین ماہ کی تیاری کے مرحلے سے گزرنا ہوگا اس دوران انجینئرز اس کے مختلف آلات اور نظام فعال کریں گے، ان کی جانچ کریں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ دوربین سائنسی کام کے لیے درست طریقے سے تیار ہے۔

رومن ٹیلی اسکوپ کی خاص بات اس کا وسیع میدانِ نظر ہے اس کا بنیادی آئینہ 2.4 میٹر چوڑا ہے، جو حجم کے اعتبار سے ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کے آئینے کے قریب ہے تاہم رومن کا وائیڈ فیلڈ انسٹرومنٹ ایک ہی مشاہدے میں ہبل کے مقابلے میں کم از کم 100 گنا زیادہ وسیع آسمانی علاقے کا جائزہ لے سکتا ہے۔

یہ صلاحیت رومن کو کائنات کا وسیع سروے کرنے کے لیے انتہائی اہم بناتی ہے سائنس دان اس کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ کہکشائیں وقت کے ساتھ کس طرح وجود میں آئیں اور تبدیل ہوئیں، کائنات میں موجود ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی کیا کردار ادا کرتے ہیں اور ہماری نظامِ شمسی سے باہر کتنے نئے سیارے موجود ہیں۔

سائنس دانوں کو امید ہے کہ رومن کے مشاہدات سے کائنات کے پھیلاؤ، ڈارک انرجی، کہکشاؤں کی ارتقائی تاریخ اور نظامِ شمسی سے باہر موجود سیاروں کے بارے میں نئی معلومات حاصل ہوں گی خاص طور پر نئے سیاروں کی تلاش میں یہ دوربین ایسی دنیاؤں کا سراغ لگانے میں مدد دے سکتی ہے جو موجودہ طریقوں سے تلاش کرنا مشکل ہیں۔

تین ماہ کے کمیشننگ اور آلات کی جانچ کے مرحلے کے بعد رومن اپنے باقاعدہ سائنسی مشاہدات شروع کرے گی، سائنسدانوں کو امید ہے کہ اس مشن سے ملنے والی معلومات علم فلکیات کے کئی بڑے سوالوں کے جواب فراہم کرے گی۔

More posts