Baaghi TV

امریکی آرمی سیکرٹری ڈین ڈرسکول نے استعفیٰ دے دیا

usa

امریکی آرمی سیکریٹری ڈین ڈرِسکول نے امریکی صدر کی انتظامیہ اور محکمہ دفاع میں کئی ماہ سے جاری کشیدگی کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس معاملے سے باخبر ایک ذرائع نے بتایا کہ ڈرِسکول نے اپنا استعفیٰ وائٹ ہاؤس کو بھیج دیا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ وائٹ ہاؤس نے استعفیٰ منظور کیا ہے یا نہیں، ڈین ڈرِسکول کو فروری 2025 میں امریکی فوج کے اعلیٰ ترین سویلین عہدوں میں سے ایک، سیکر یٹری آف دی آرمی، مقرر کیا گیا تھا وہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔

ان کا استعفیٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے ساتھ ان کے اختلافات کئی ماہ سے بڑھ رہے تھےرائٹرز کے مطابق ڈرِسکول ہیگسیتھ کے دور میں پینٹاگون سے الگ ہونے والے یا عہدوں سے ہٹائے جانے والے کئی اعلیٰ حکام میں تازہ ترین نام ہیں۔

معاملے سے واقف ذرائع نے دعویٰ کیا کہ ڈرِسکول نے امریکی انتظامیہ کے سامنے فوج میں تبدیلیوں اور جنگی تیاری سے متعلق خدشات اٹھائے تھے، ر پورٹ کے مطابق ڈرِسکول کا مؤقف تھا کہ فوج کو جدید بنانے کی کوششوں میں رکاوٹیں پیدا کی گئیں، خاص طور پر ان جرنیلوں کو برطرف کیے جانے کے با عث جو ان کوششوں کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے تھے۔

امریکی محکمہ فوج نے ڈرِسکول کے استعفے کی خبر پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا یہ خبر سب سے پہلے وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کی تھی،تاہم وائٹ ہاؤس نے ڈین ڈرِسکول کے کام کی تعریف کی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے ایک بیان میں کہا کہ سیکریٹری ڈرِسکول نے محکمہ فوج میں صدر ٹر مپ کے ’امریکا کو دوبارہ مضبوط بنانے‘ کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں انتہائی مؤثر کردار ادا کیاڈرِسکول نے تاریخی فوجی کارروائیوں کے دوران بہترین قیادت فراہم کی، فوج کی جنگی تیاری اور مؤثر کارروائی پر دوبارہ توجہ مرکوز کی اور روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات میں بھی مدد کی۔

امریکی فوج کے نائب انڈر سیکریٹری ڈیو فٹزجیرالڈ کے بھی استعفیٰ دینے کی توقع ہے فٹزجیرالڈ امریکی فوج میں جدت اور نئی ٹیکنالوجی سے متعلق امور پر کام کر رہے تھے، انہوں نے رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔

ڈین ڈرِسکول اور پیٹ ہیگسیتھ کے درمیان اختلافات کی ایک بڑی وجہ امریکی فوج کو جدید بنانے کا معاملہ بھی بتایا جاتا ہے ڈرِسکول نے فوج پر زور دیا تھا کہ وہ کم قیمت اور جدید ہتھیار زیادہ تیزی سے حاصل کرے انہوں نے بڑی دفاعی کمپنیوں پر بھی سخت تنقید کی تھی ڈرِسکول نے گزشتہ برس بڑی دفاعی کمپنیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ دفاعی صنعت نے مجموعی طور پر، اور خاص طور پر بڑی کمپنیاں، امریکی عوام، پینٹاگون اور فوج کو دھوکا دیا۔

ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہیگسیتھ ڈرِسکول کو محکمہ دفاع کے اندر اپنے لیے ایک خطرے کے طور پر دیکھتے تھے اور طویل عرصے سے انہیں عہدے سے ہٹانا چاہتے تھے تاہم عہدیدار کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ ڈرِسکول کے قریبی تعلقات کی وجہ سے ایسا کرنا مشکل تھا۔

ڈین ڈرِسکول نے اس دوران پینٹاگون سے باہر بھی اہم ذمہ داریاں سنبھالیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں روس اور یوکرین کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے ماسکو اور کیف کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں شامل کیا تھا رائٹرز کے مطابق کسی امریکی آرمی سیکریٹری کے لیے اس نوعیت کا سفارتی کردار غیر معمولی سمجھا جاتا ہے۔

اپریل میں پیٹ ہیگسیتھ نے امریکی آرمی چیف آف اسٹاف جنرل رینڈی جارج کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا یہ تبدیلی ایسے وقت میں ہوئی جب امریکا مشرق وسطیٰ میں ایک بڑی جنگ میں مصروف تھا،امریکی عہدیدار کے مطابق جنرل رینڈی جارج کی برطرفی نے ڈرِسکول کو حیران کر دیا تھا اور اس واقعے کے بعد ان کے اور ہیگسیتھ کے درمیان اختلافات مزید بڑھ گئے۔

ڈرِسکول نے اپریل میں امریکی قانون سازوں کو بتایا تھا کہ جنرل جارج کی برطرفی کے بعد ان کا خاندان سابق جنرل کے گھر گیا اور انہیں گلے لگایابعد ازاں جون میں ہیگسیتھ نے یورپ میں تعینات امریکی فوج کے سربراہ کو بھی عہدے سے ہٹا دیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے کئی اعلیٰ فوجی افسران کی ترقی بھی روک دی تھی۔

ریپبلکن رکن کانگریس پیٹ ہیریگن نے ڈین ڈرِسکول کے ممکنہ استعفے پر ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ڈرِسکول نے ایسے ادارے میں فوری تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا جہاں غفلت کی کوئی گنجائش نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈین کی ملک کے لیے خدمت ابھی ختم نہیں ہوئی۔

More posts