Baaghi TV

پانچ میں سے ایک امریکی اپنے گھر سے ’بریک اپ‘ کرنے کا سوچ رہا ، سروے

امریکا میں تقریباً ہر پانچ میں سے ایک گھر کا مالک اپنے موجودہ گھر سے ’رشتہ ختم‘ کرنے یعنی اسے چھوڑ کر نیا گھر خریدنے یا منتقل ہونے پر غور کر رہا ہے۔

نئے سروے کے مطابق 2 ہزار امریکی گھر مالکان سے کیے گئے جائزے میں 20 فیصد افراد نے بتایا کہ وہ اپنے موجودہ گھر کے ساتھ ’بریک اپ‘ کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ ان میں 24 فیصد نے اس کی وجہ اپنی مالی صورتحال میں تبدیلی جبکہ 22 فیصد نے گھر میں بڑھتی ہوئی مرمتوں کو قرار دیا۔سروے میں گھر مالکان نے اپنے گھروں میں کئی ایسی ’ریڈ فلیگز‘ بھی بیان کیں جو انہیں گھر چھوڑنے پر مجبور کر سکتی ہیں۔ 19 فیصد افراد نے گھر میں کیڑے مکوڑوں یا دیگر جانداروں کے داخل ہونے کو مسئلہ قرار دیا، جبکہ 17 فیصد نے شور مچانے والے پڑوسیوں، 17 فیصد نے دیواروں میں دراڑوں اور 17 فیصد نے گھر میں جگہ کم پڑنے کی شکایت کی۔ مزید 16 فیصد نے پانی سے ہونے والے نقصان کو ایک بڑی پریشانی قرار دیا۔تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ گھر سے ’بریک اپ‘ کا سوچنے کے باوجود زیادہ تر امریکی اپنے موجودہ گھروں سے مکمل طور پر ناخوش نہیں۔ سروے میں موجودہ گھروں کو اوسطاً 10 میں سے 7.5 نمبر دیے گئے۔

بہت سے گھر مالکان کے لیے جذباتی وابستگی بھی اہم ہے۔ 33 فیصد افراد نے کہا کہ گھر چھوڑنے کی صورت میں انہیں وہاں سے جڑی یادوں کی کمی محسوس ہوگی، جبکہ 27 فیصد نے کہا کہ انہیں خود اپنا گھر یاد آئے گا۔سروے کے مطابق گھروں میں ’گرین فلیگز‘ بھی کم نہیں۔ 36 فیصد افراد نے کہا کہ ان کے گھر میں ان کی تمام ضروریات کے لیے مناسب جگہ موجود ہے، جبکہ 30 فیصد نے بہترین صحن کو گھر کی خاص خوبی قرار دیا۔ 24 فیصد نے ماسٹر بیڈروم کے ساتھ علیحدہ یا نجی واش روم کو اہم مثبت خصوصیت بتایا، جبکہ 23 فیصد نے بڑے کچن اور 19 فیصد نے بڑی الماریوں کو پسندیدہ خصوصیات قرار دیا۔گھر کے پسندیدہ حصوں کے حوالے سے 40 فیصد افراد نے عقبی صحن، 39 فیصد نے لِونگ روم اور 33 فیصد نے کچن کے حجم کو اپنی پسندیدہ چیز قرار دیا۔

سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ 66 فیصد گھر مالکان اب بھی اپنے گھر سے اتنی ہی محبت کرتے ہیں جتنی انہوں نے اسے خریدتے وقت کی تھی۔ مزید 54 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ وہ موجودہ گھر میں 15 سال سے زیادہ عرصے تک رہنے کا تصور کر سکتے ہیں۔

دوسری جانب 46 فیصد امریکی اپنے موجودہ گھر کو ہی ’ڈریم ہوم‘ میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تقریباً 43 فیصد افراد کبھی کبھار یہ تصور بھی کرتے ہیں کہ وہ آئندہ کہاں رہیں گے۔گھر کی تزئین و آرائش کرنے والوں میں 24 فیصد نے صحن یا باغ کی لینڈ اسکیپنگ، 22 فیصد نے کچن کی اپ گریڈیشن، 20 فیصد نے اندرونی حصوں پر نیا رنگ اور مزید 20 فیصد نے فرش تبدیل کرنے کو ترجیح دی۔ان منصوبوں کو مکمل کرنا بھی آسان نہیں، کیونکہ کئی گھر مالکان کے مطابق اپنے خوابوں کا گھر بنانے میں تقریباً چار سال لگ سکتے ہیں۔ 13 فیصد کا خیال ہے کہ انہیں پانچ سال سے زیادہ عرصہ درکار ہوگا جبکہ 10 فیصد نے خدشہ ظاہر کیا کہ ان کا منصوبہ کبھی مکمل ہی نہیں ہوگا۔مجموعی طور پر امریکی گھر مالکان نے اپنے گھروں کے ساتھ تعلق کو 42 فیصد نے ’خوشگوار‘، 36 فیصد نے ’قدردانی پر مبنی‘ اور 33 فیصد نے ’اچھا‘ قرار دیا، جبکہ تقریباً 11 فیصد نے اپنے گھر کے ساتھ تعلق کو ’پیچیدہ‘ قرار دیا۔سروے کے مطابق اوسط امریکی گھر تقریباً 1900 مربع فٹ رقبے پر مشتمل ہے، جس میں عموماً تین بیڈروم اور دو باتھ روم ہوتے ہیں، جبکہ 70 فیصد جواب دہندگان سنگل فیملی گھروں میں رہتے ہیں۔

More posts