Baaghi TV

جوابی حملے کیوں کیے؟ٹرمپ کی ایران پرمزید بڑے حملے کی دھمکی

امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر خطرناک مرحلے میں داخل ہوگئی ہے اور دونوں ممالک کی جانب سے حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف بیلسٹک میزائل حملوں کی نئی لہر کا حکم دے دیا ہے، امریکی سفارتخانوں نے خطے میں موجود اپنے شہریوں کو بھی سکیورٹی خطرات کے پیش نظر محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔رپورٹس کے مطابق منگل کے روز امریکا نے آبنائے ہرمز کے ساحلی علاقے میں تقریباً 300 میل کے فاصلے تک ایرانی ریڈار نظام اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ بتایا گیا ہے کہ حملوں کی تعداد تقریباً ایک درجن تھی۔ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق امریکی حملوں میں تیل سے مالا مال جزیرے قشم کو بھی نشانہ بنایا گیا، جبکہ جنوبی بندرگاہی شہروں بندر عباس اور چابہار میں بھی دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔

امریکی حملوں کے بعد ایران نے بھی جوابی کارروائی کا دعویٰ کیا ہے۔ ایران کی پاسداران انقلاب اسلامی (IRGC) کے مطابق بیلسٹک میزائل کے ذریعے اردن میں قائم امریکی میرین بیس کیمپ ٹٹن کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کی جانب سے فوری طور پر اس دعوے کی تصدیق نہیں کی گئی۔یہ تازہ جھڑپیں ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب ایران نے گزشتہ ہفتے کے اختتام پر اردن میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا تھا۔ اس کے بعد امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا تھا کہ امریکا ایرانی حکومت کے خلاف ’’سخت جوابی کارروائی‘‘ کر رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے تازہ حملوں کا جواب دیا تو امریکا اس سے کہیں زیادہ شدید کارروائی کرے گا۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ایران نے اس حملے کا جواب دیا تو اسے ’’زیادہ سخت اور بلند سطح‘‘ پر دوبارہ نشانہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ سب سے بڑا حملہ نہیں ہوگا بلکہ اس سے بھی بڑی کارروائی ’’انتظار میں ہے‘‘ اور اس کے بعد ایران کی اسلامی جمہوریہ کے لیے بہت کچھ باقی نہیں رہے گا۔

ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر قطر، اسرائیل اور اردن میں امریکی سفارتخانوں نے خطے میں موجود امریکی شہریوں کے لیے سکیورٹی الرٹ جاری کیا ہے۔امریکی سفارتی حکام نے خبردار کیا کہ موجودہ صورتحال میں اچانک کشیدگی بڑھنے کا امکان موجود ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر معمولی طور پر محتاط رہیں اور ممکنہ پروازوں کی منسوخی، فضائی حدود کی بندش اور سفری رکاوٹوں کے لیے تیار رہیں۔دوسری جانب ایران کی پاسداران انقلاب نے پیر کی رات آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے دو تجارتی بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنایا، جس سے عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

تازہ امریکی حملوں نے صدر ٹرمپ کے ان سابقہ دعوؤں پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں جن میں وہ متعدد مرتبہ کہہ چکے تھے کہ ایران کی فوجی صلاحیت تباہ کردی گئی ہے اور جنگ ختم ہوچکی ہے۔تاہم اب بھی ایرانی ریڈار اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان فوجی محاذ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔

امریکا اور ایران کے درمیان اس سے قبل جون میں پاکستان کی ثالثی سے 14 نکاتی جنگ بندی معاہدہ طے پایا تھا۔ معاہدے کے تحت دونوں فریقوں کو 60 دن کے اندر جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے مذاکرات کرنا تھے۔تاہم چند ہی ہفتوں بعد لڑائی دوبارہ شروع ہوگئی اور یہ جنگ بندی 17 اگست کو ختم ہوگئی۔ اس کے بعد کوئی نیا معاہدہ سامنے نہیں آسکا۔فی الحال امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات بھی نہیں ہو رہے۔ صدر ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع سے انکار کیا ہے، جبکہ وائٹ ہاؤس کا مطالبہ ہے کہ ایران اپنے افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے دستبردار ہو اور اپنے جوہری پروگرام کو ختم کرے۔ایران نے امریکی مطالبات مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ امریکا پہلے اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرے اور آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کو تسلیم کرے۔

ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے ساتھ ساتھ امریکا نے اقتصادی دباؤ بھی بڑھانے کا عندیہ دیا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ واشنگٹن ایران کی حکومت کو معاشی طور پر اس وقت تک دباؤ میں رکھے گا جب تک وہ معاہدے کے لیے آمادہ نہیں ہوجاتی۔صدر ٹرمپ نے بھی ایران کے خلاف ایک نئی ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ کارروائی شروع کرنے کی دھمکی دی ہے، جس کا مقصد تہران کو اپنا جوہری پروگرام ختم کرنے پر مجبور کرنا ہے۔یوں امریکا اور ایران کے درمیان کئی ماہ سے جاری محاذ آرائی ایک بار پھر براہِ راست فوجی حملوں، میزائل کارروائیوں، بحری کشیدگی اور معاشی دباؤ کے نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے، جبکہ خطے میں موجود دیگر ممالک اور عالمی منڈیوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

مقامی حکام کے مطابق امریکی حملے میں ایک ایسا گھر بھی زد میں آیا جہاں شادی کی تقریب جاری تھی۔ حملے کے نتیجے میں کم از کم 5 افراد ہلاک جبکہ 60 سے زائد زخمی ہوگئے۔امریکی فوج نے واقعے سے متعلق رپورٹس کا علم ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امریکی افواج شہریوں کو کبھی دانستہ طور پر نشانہ نہیں بناتیں۔ تاہم مقامی حکام کی جانب سے ہلاکتوں اور زخمیوں کی اطلاعات نے امریکی کارروائی پر مزید سوالات اٹھا دیے ہیں۔

امریکی کارروائی کے جواب میں ایران نے بھی خطے میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق اردن میں موجود دو امریکی فوجی اڈوں پر میزائل داغے گئے۔اردن کی مسلح افواج کے مطابق اس کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے 8 میزائلوں کو فضائی دفاعی نظام نے روک کر تباہ کردیا، جبکہ دیگر میزائلوں کے حوالے سے بتایا گیا کہ وہ غیر آباد علاقوں میں گرے۔دوسری جانب کویت اور بحرین میں بھی ممکنہ حملوں کے خدشے کے پیش نظر الرٹس جاری کیے گئے۔

تہران نے واضح کیا کہ امریکی اقدامات ’’بے سزا نہیں رہیں گے‘‘۔ ایرانی قیادت نے اس سے قبل یہ اشارہ بھی دیا تھا کہ اگر واشنگٹن جون میں طے پانے والے عبوری جنگ بندی معاہدے پر واپس آتا ہے تو ایران بھی مذاکرات اور جنگ بندی کے راستے پر دوبارہ غور کرسکتا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی میں آبنائے ہرمز مرکزی حیثیت اختیار کرچکی ہے۔ یہ انتہائی اہم سمندری راستہ خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتا ہے اور عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے یا ایسا کرنے کی صلاحیت رکھنے والے راکٹ لانچرز کی موجودگی عالمی تجارتی جہاز رانی کے لیے خطرہ ہے۔امریکی حملوں کے حوالے سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ واشنگٹن آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا چاہتا ہے تاکہ عالمی بحری تجارت اور توانائی کی سپلائی متاثر نہ ہو۔

رپورٹ کے مطابق امریکی فورسز نے آبنائے ہرمز میں واقع لارک جزیرے پر ایرانی راکٹ لانچرز کو نشانہ بنایا۔ اسے تقریباً ایک ماہ کے بعد ایران کے خلاف امریکی فوج کی پہلی کارروائی قرار دیا گیا۔امریکی سینٹرل کمانڈ نے اسے ’’محدود اور انتہائی درست‘‘ کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہدف ان فورسز کو بنایا گیا جو مبینہ طور پر آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیت رکھتی تھیں۔

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات خلیجی ممالک تک بھی پہنچ رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے ایرانی ڈرون کو اپنی علاقائی حدود کے قریب روکنے کی تصدیق کی اور اس واقعے کو ’’سنگین اشتعال انگیزی‘‘ قرار دیا۔متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے ایرانی کارروائیوں کو ناقابل قبول خلاف ورزی اور براہ راست خطرہ قرار دیا۔ایران کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس نے متحدہ عرب امارات کے المِنہاد ایئر بیس کو بھی ڈرون حملے کا نشانہ بنایا، جہاں امریکی افواج اور ہیلی کاپٹرز کی موجودگی بتائی جاتی ہے، تاہم اماراتی حکام نے اس دعوے کی تردید کی۔

امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی فوجی کارروائیوں نے عالمی توانائی کی منڈیوں کو بھی متاثر کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا جبکہ رواں ہفتے مجموعی طور پر تیل کی قیمت پہلے ہی تقریباً 7 فیصد بڑھ چکی تھی۔آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت میں رکاوٹ اور ممکنہ طور پر طویل عرصے تک سپلائی متاثر ہونے کے خدشے نے عالمی منڈیوں میں بے یقینی بڑھا دی ہے۔

جنگ کے معاشی اثرات خطے کے اہم ممالک پر بھی پڑ رہے ہیں۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب جنگ سے پیدا ہونے والے مالی دباؤ سے نمٹنے کے لیے کم از کم 8 ارب ڈالر کے نئے قرض کے حصول پر غور کر رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق سعودی نیشنل ڈیبٹ مینجمنٹ سینٹر نے ممکنہ قرض کے لیے بینکوں سے رابطے شروع کیے ہیں، جبکہ سرکاری ملکیت کی سعودی آرامکو بھی بینکوں کے ساتھ اسی نوعیت کے معاملات پر بات چیت کررہی ہے۔سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی جنگ کے دوران ایرانی حملوں کا سامنا رہا ہے جبکہ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر حملوں نے خطے کی تجارتی سرگرمیوں کو مزید متاثر کیا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع نے میزائلوں کی پیداوار میں تیزی لانے کے لیے بڑے دفاعی معاہدے بھی کیے ہیں۔پینٹاگون کے مطابق جنرل ڈائنامکس اور لاک ہیڈ مارٹن کے ساتھ سات سالہ معاہدے کیے گئے ہیں جن کا مقصد اہم میزائل پرزہ جات کی پیداوار بڑھانا اور ان کی فراہمی کے اوقات کم کرنا ہے۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان معاہدوں کے ذریعے ملکی دفاعی پیداواری صلاحیت میں تیزی سے اضافہ کیا جائے گا۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اس ماہ کے آغاز میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے دوران امریکی فوج نے اپنے عالمی ذخیرے میں موجود بڑی تعداد میں انتہائی درست نشانے والے طویل فاصلے کے میزائل استعمال کرلیے تھے۔

دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ طویل جنگ کسی کے مفاد میں نہیں۔شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر کرغزستان میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کے دوران ایرانی صدر نے مبینہ طور پر کہا کہ تہران امریکا کے ساتھ تنازع کا مذاکرات کے ذریعے حل چاہتا ہے۔ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ بات چیت اور تعاون کے ذریعے موجودہ مسائل حل کیے جاسکتے ہیں۔

کشیدگی کے دوران اطلاعات اور سوشل میڈیا پر جاری ہونے والے مواد نے بھی تنازع کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایرانی جزیرے خارگ پر شدید حملے کی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جزیرہ ’’تباہ کیا جا رہا ہے‘‘۔ تاہم بعد میں ایک امریکی عہدیدار نے واضح کیا کہ رات کی کارروائیوں میں خارگ جزیرے کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ایرانی حکام نے بھی ویڈیو کو جعلی اور مضحکہ خیز قرار دیا۔ نیشنل ایرانی آئل کمپنی کے سربراہ حامد بُوارد کے مطابق خارگ میں تیل کی سرگرمیاں جاری ہیں اور وہاں حالات معمول کے مطابق ہیں۔اس واقعے نے جنگ کے دوران مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ یا جعلی مواد کے استعمال اور اس کے ذریعے رائے عامہ پر اثرانداز ہونے کے خطرات کو بھی نمایاں کردیا ہے۔

یورپی یونین نے امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ فوجی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکا اور دیگر عالمی شراکت داروں کے ساتھ ایران کے معاملے پر کام جاری رکھے گی۔یورپی یونین نے ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے ساتھ ہی کشیدگی میں کمی اور بامقصد مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔یورپی مؤقف کے مطابق ایران کو اپنی مبینہ عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمیاں روک کر سنجیدگی اور نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہونا چاہیے۔

موجودہ صورتحال میں سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا امریکا اور ایران کے درمیان محدود جوابی کارروائیاں دوبارہ مکمل جنگ میں تبدیل ہوسکتی ہیں؟فوجی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران مذاکرات کی میز پر اپنی پوزیشن مضبوط رکھنے کی کوشش کرسکتا ہے، جبکہ امریکا بھی فوجی دباؤ کے ذریعے تہران کو اپنے مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کرنا چاہتا ہے۔تجزیہ کار شان بیل کے مطابق ایران آسانی سے ہتھیار ڈالنے یا امریکی شرائط قبول کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتا۔ ان کے مطابق واشنگٹن کے پاس جنگ جاری رکھنے اور مذاکرات کی طرف واپس آنے کے درمیان مشکل انتخاب موجود ہے۔یوں خطے کی صورتحال بدستور انتہائی نازک ہے۔ آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت، امریکی فوجی اڈوں کی سلامتی، ایران کی جوابی کارروائیاں اور ٹرمپ کی جانب سے مزید سخت حملوں کی دھمکی ایسے عوامل ہیں جو آنے والے دنوں میں عالمی سطح پر سلامتی، تیل کی قیمتوں اور سفارتی صورتحال پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں

More posts