بھارت پاکستان کے خلاف سائبر اور پروپیگنڈا جنگ میں کالعدم تنظیموں، جن میں فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان اور دیگر دہشت گرد گروہ شامل ہیں، کو مبینہ طور پر معاونت فراہم کر رہا ہے۔
میدانِ جنگ میں پسپائی کے بعد بھی بھارت اپنے مبینہ پراکسیز کے ذریعے پاکستان میں بدامنی اور انتشار پیدا کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔یورپی یونین ڈس انفو لیب (EU DisinfoLab) نے بھی بھارت کے کردار اور تخریبی عناصر کی جانب سے چلائی جانے والی گمراہ کن پروپیگنڈا مہمات کے حوالے سے اہم انکشافات کیے ہیں۔یورپی یونین ڈس انفو لیب کے مطابق بھارت 65 سے زائد ممالک میں سینکڑوں جعلی ویب سائٹس اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس چلا رہا ہے، جن کا مبینہ مقصد پاکستان کے خلاف غلط معلومات پھیلانا ہے۔رپورٹ کے مطابق بھارت ڈیجیٹل محاذ پر تخریبی عناصر کی حمایت میں پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے جعلی ویب سائٹس، فرضی صحافیوں اور جعلی مطبوعات کا استعمال کرتا ہے۔
یورپی یونین ڈس انفو لیب کے مطابق نئی دہلی میں قائم سری واستوا گروپ سے منسلک کم از کم 10 غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کو پاکستان کے خلاف گمراہ کن بیانیہ فروغ دینے کے لیے استعمال کیا گیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی سرپرستی میں مبینہ طور پر چلنے والے جعلی میڈیا اداروں کے ذریعے شائع ہونے والی رپورٹس کو بھی دنیا بھر میں پاکستان کے خلاف من گھڑت بیانیے تشکیل دینے کے لیے استعمال کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان اور آزاد جموں و کشمیر میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کے حوالے سے بھارت کا کردار کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، جبکہ پاکستان میں بدامنی پیدا کرنے کے لیے کالعدم سندھی تنظیموں کے ساتھ بھارت کے مبینہ گٹھ جوڑ کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔کالعدم سندھی عسکری تنظیموں کو ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے ذریعے بھارتی معاونت فراہم کیے جانے کے حوالے سے بھی اہم تکنیکی شواہد سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق کالعدم سندھی عسکری تنظیم سے منسلک ایک ویب سائٹ کے پیچھے موجود تکنیکی انفراسٹرکچر مبینہ طور پر بھارت کے شہر ناگپور سے چلایا جا رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق مذکورہ ویب سائٹ کی میزبانی ایسے اداروں کے ذریعے کی جا رہی ہے جو Verit IT Consulting and Host سے وابستہ ہیں، جبکہ ویب سائٹ کا اصل آئی پی ایڈریس بھی مبینہ طور پر بھارت سے منسلک پایا گیا۔
بھارتی شہری پرشانت شاہ ویب سائٹ کے ڈومین رجسٹریشن، ہوسٹنگ، سرور مینجمنٹ اور سکیورٹی سے متعلق امور میں ملوث ہے۔تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پرشانت آر شاہ کے روابط ناگپور رینج پولیس کے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے بھی سامنے آئے ہیں، جبکہ اس کی جانب سے بھارت کے انٹیلی جنس بیورو کو سائبر اور آئی ٹی خدمات فراہم کیے جانے کے شواہد بھی مبینہ طور پر سامنے آئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق بھارت پاکستان کو نشانہ بنانے والی دہشت گرد تنظیموں اور پراکسیز کو مبینہ طور پر صرف مالی معاونت ہی فراہم نہیں کر رہا بلکہ گمراہ کن پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے انہیں ڈیجیٹل محاذ پر بھی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے پیچھے بھارت کا مبینہ کردار خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کا ایک اہم محرک بن چکا ہے۔
