واشنگٹن: امریکی محکمہ خارجہ نے افغانستان میں امریکی سرمایہ کاری کے حوالے سے طالبان کی دعوت مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن کا طالبان کے ساتھ افغانستان کے اہم معدنی وسائل کی ترقی میں شراکت داری یا تعاون کا کوئی منصوبہ نہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے وائس آف امریکا کو بتایا کہ افغانستان میں امریکی سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی رقم طالبان کے ہاتھوں میں پہنچنے کا خدشہ ہے، جس سے افغان عوام پر مزید جبر اور پابندیوں کو تقویت مل سکتی ہے۔امریکی موقف طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی کی جانب سے واشنگٹن کو افغانستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیے جانے کے بعد سامنے آیا۔ متقی نے کان کنی، بنیادی ڈھانچے، زراعت اور تجارت سمیت مختلف شعبوں میں امریکی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرنے کی پیشکش کی تھی۔
امیر خان متقی نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ افغانستان اور امریکا کے تعلقات کو گزشتہ 20 سال کی جنگ کے تناظر کے بجائے مستقبل میں اقتصادی تعاون کی بنیاد پر آگے بڑھایا جانا چاہیے۔
افغانستان کے پاس وسیع معدنی وسائل موجود ہیں جن کی مالیت مختلف امریکی و افغان ارضیاتی جائزوں کے مطابق ایک ٹریلین ڈالر سے زائد بتائی جاتی ہے، تاہم ان وسائل کا بڑا حصہ تاحال غیر ترقی یافتہ ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ طالبان کے ساتھ اس نوعیت کے اقتصادی تعاون کا فی الحال کوئی منصوبہ نہیں، جبکہ واشنگٹن طالبان کی پالیسیوں، خصوصاً افغان شہریوں کے ساتھ سلوک، کے حوالے سے اپنے تحفظات برقرار رکھے ہوئے ہے۔
