Baaghi TV

ترقی کی روشنی میں بجھتے ہوئے چراغ،تحریر: زینب جہانزیب

ہم ترقی کر رہے ہیں۔۔۔ مگر کبھی کبھی دل ٹھہر کر یہ سوال کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ ہماری اس ترقی کی قیمت کون ادا کر رہا ہے؟ شہر بدل گئے، بازار بدل گئے، خریداری کے انداز بدل گئے۔ انگلی کے ایک لمس پر دنیا بھر کی چیزیں ہمارے دروازے تک پہنچنے لگی ہیں۔ وقت بچنے لگا، سفر کم ہونے لگا، سہولت ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن گئی۔ ہم نے اسے ترقی کہا، جدید دور کہا، وقت کی ضرورت کہا۔۔۔ اور شاید یہ سب درست بھی ہے۔ مگر اسی ترقی کے شور میں کہیں ایک چھوٹی سی دکان کا شٹر آہستہ آہستہ گر گیا، کہیں ایک دکاندار نے کئی دہائیوں بعد اپنی دکان بند کر دی، کہیں ایک باپ نے اپنے بچوں کی فیس کے لیے آخری امید بھی بیچ دی۔ ہم نے کبھی سوچا کہ ہماری ایک آن لائن خریداری کے پیچھے کسی اور کے گھر کی روزانہ کی روٹی بھی چھپی ہوئی تھی؟
وہ چھوٹی سی دکان جس کے باہر بیٹھا دکاندار ہمیں نام سے جانتا تھا، جسے معلوم تھا کہ محلے کے کس گھر میں چینی ختم ہو گئی ہے، کس بچے کو کون سا بسکٹ پسند ہے، کس بزرگ کے لیے دوا لانی ہے۔۔۔ وہ دکان صرف تجارت کی جگہ نہیں تھی، وہ ایک خاندان کی معیشت تھی، ایک باپ کی محنت تھی، ایک ماں کی دعاؤں کا سہارا تھی اور کئی بچوں کے مستقبل کی امید تھی۔ مگر اب ہم اس دکان کے سامنے سے گزرتے ہوئے بھی شاید نہیں رکتے۔ ہمیں ہر چیز سستی چاہیے، فوری چاہیے، گھر بیٹھے چاہیے۔ ہمیں یہ یاد نہیں رہتا کہ جو چیز ہمیں چند روپے کم میں مل رہی ہے، وہ کسی چھوٹے تاجر کے لیے چند روپے نہیں بلکہ اس کے پورے دن کی کمائی ہو سکتی ہے۔

وہ چھوٹا سا تاجر جو صبح دکان کھولتا ہے تو اس کے ذہن میں صرف کاروبار نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ بجلی کا بل ہوتا ہے، دکان کا کرایہ ہوتا ہے، بچوں کی فیس ہوتی ہے، گھر کا راشن ہوتا ہے، کسی بیمار ماں کی دوا ہوتی ہے، کسی بیٹی کی شادی کی فکر ہوتی ہے۔ اس کی دکان میں صرف سامان نہیں رکھا ہوتا، اس کی پوری زندگی رکھی ہوتی ہے۔ اور جب گاہک آنا کم کر دیتے ہیں تو صرف دکان کی رونق کم نہیں ہوتی۔۔۔ ایک گھر کے اندر امید کم ہونے لگتی ہے۔
ہم اکثر کہتے ہیں کہ زمانہ بدل گیا ہے، اب پرانے طریقوں سے کاروبار نہیں چل سکتا۔ شاید واقعی نہیں چل سکتا۔ مگر کیا ترقی کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص نئی دوڑ کے ساتھ نہیں چل سکتا، اسے راستے سے ہٹا دیا جائے؟ کیا ترقی یہ نہیں ہو سکتی کہ نئی سہولتیں بھی رہیں اور پرانے ہاتھ بھی سلامت رہیں؟ کیا ہم اتنے مصروف ہو گئے ہیں کہ اپنے ہی محلے کے اُس دکاندار کے پاس جانا ہمیں وقت کا ضیاع لگنے لگا ہے، جس نے برسوں ہمارے گھروں کی ضروریات پوری کیں؟

کبھی کسی چھوٹی دکان پر جا کر دکاندار کی آنکھوں میں دیکھیے گا۔۔۔ وہ شاید آپ کو مسکرا کر کہے گا، "کیا چاہیے؟” مگر اس مسکراہٹ کے پیچھے کئی مہینوں سے جمع ہوتی ہوئی پریشانی بھی ہو سکتی ہے۔ وہ آپ کو چیز دے گا، شاید ادھار بھی دے دے گا۔۔۔ مگر اپنے گھر واپس جا کر شاید یہی سوچتا رہے گا کہ آج کا خرچ کیسے پورا ہوگا؟ ہم میں سے اکثر لوگ یہ نہیں جانتے کہ کسی کے کاروبار کا ختم ہونا صرف اس کی آمدنی کا ختم ہونا نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی اس کے ساتھ بچوں کے خواب رک جاتے ہیں، کسی بیٹی کی پڑھائی متاثر ہوتی ہے، کسی بیٹے کی فیس مؤخر ہوتی ہے، کسی ماں کی دوا کم ہو جاتی ہے اور کسی باپ کے چہرے سے وہ اطمینان چھن جاتا ہے جو اپنی اولاد کے لیے کمانے سے آتا ہے۔
اور سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ہم ان لوگوں کو ناکام سمجھنے لگتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں، "ان کا کاروبار نہیں چل رہا۔” مگر شاید ہمیں ایک لمحے کے لیے یہ بھی کہنا چاہیے کہ "ہم نے ان کے پاس جانا چھوڑ دیا ہے۔” فرق صرف چند الفاظ کا ہے، مگر ان الفاظ میں پوری حقیقت چھپی ہوئی ہے۔
میں جدید سہولتوں کے خلاف نہیں۔ نہ ہی وقت کو پیچھے لے جانے کی خواہش رکھتی ہوں۔ ترقی انسان کی ضرورت ہے، لیکن ایسی ترقی جو انسان کو انسان سے ہی دور کر دے، اس پر سوال اٹھانا بھی ضروری ہے۔ ہمیں نئی دنیا چاہیے، مگر اس نئی دنیا میں پرانے محنت کش ہاتھوں کے لیے بھی جگہ چاہیے۔ ہمیں آن لائن بازار بھی چاہیے، مگر محلے کی وہ چھوٹی سی دکان بھی چاہیے جہاں ضرورت کے وقت کوئی ہمیں پہچانتا ہو۔ ہمیں بڑی کمپنیوں کی سہولت بھی چاہیے، مگر اُس شخص کی روزی بھی عزیز ہونی چاہیے جو اپنی چھوٹی سی دکان کے ذریعے اپنے خاندان کا سہارا بنا ہوا ہے۔

شاید ہمیں اپنی خریداری کی عادتوں میں صرف ایک چھوٹی سی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ ہر چیز بڑی جگہ سے خریدنا ضروری نہیں، ہر بار آن لائن آرڈر کرنا ضروری نہیں۔ کبھی اپنے محلے کی دکان سے بھی خرید لیجیے، کبھی اُس شخص کو بھی ترجیح دے دیجیے جس کی پوری زندگی ایک چھوٹی سی دکان کے شٹر کے ساتھ بندھی ہوئی ہے۔ کیونکہ جب ایک چھوٹا تاجر کماتا ہے تو صرف ایک فرد نہیں کماتا۔۔۔ ایک پورا گھر سانس لیتا ہے۔
اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں ترقی کی تعریف دوبارہ لکھنے کی ضرورت ہے۔ ترقی صرف یہ نہیں کہ چیزیں ہمارے دروازے تک پہنچ جائیں؛ ترقی یہ بھی ہے کہ کسی کے گھر کا چولہا ہماری سہولتوں کی وجہ سے بجھنے نہ پائے۔ ہم نے دنیا کو بہت تیز بنا دیا ہے۔۔۔ بس ذرا سا رک کر یہ دیکھنا باقی ہے کہ اس تیزی میں کون پیچھے رہ گیا ہے۔
کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک دن ہمارے شہر میں بڑی بڑی عمارتیں، بڑے بڑے اسٹور اور بے شمار آن لائن بازار تو باقی رہ جائیں، مگر وہ چھوٹی سی دکان نہ رہے جہاں ایک دکاندار اپنی پوری زندگی بیچ کر بھی اپنے بچوں کے لیے ایک بہتر کل خریدنے کی کوشش کرتا تھا۔ اور پھر ہمیں احساس ہو کہ ہم نے صرف ایک دکان نہیں کھوئی۔۔۔ ہم نے کسی کے خوابوں کی ایک پوری دنیا بند ہوتے دیکھی تھی، مگر ہم نے شٹر گرنے کی آواز سننے کی زحمت ہی نہیں کی۔

More posts