کراچی میں منکی پاکس کا ایک اور کیس سامنے آگیا، جس کے بعد ملک میں اس وائرس کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 41 ہوگئی۔
حکام کے مطابق اندرون سندھ سے تعلق رکھنے والے 19 سالہ نوجوان کو گزشتہ روز نیپا اسپتال لایا گیا تھا۔ نوجوان کے جسم پر دانے موجود تھے، جس پر ڈاکٹروں نے اس کے سیمپلز ٹیسٹ کے لیے بھجوائے۔ پی سی آر ٹیسٹ میں ایم پاکس کی تصدیق ہوگئی۔
حکام کے مطابق کراچی میں ایم پاکس کے اب تک 13 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں، جبکہ سندھ بھر میں کیسز کی تعداد 28 ہوگئی ہے۔ ملک میں مجموعی طور پر منکی پاکس کے تصدیق شدہ کیسز 41 تک پہنچ گئے ہیں۔
منکی پاکس کیا ہے؟
منکی پاکس، جسے اب ایم پاکس بھی کہا جاتا ہے، ایک وائرل بیماری ہے جو بنیادی طور پر جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوسکتی ہے، تاہم متاثرہ شخص سے دوسرے انسان میں بھی پھیل سکتی ہے۔ یہ وائرس پاکس وائرسز کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔
منکی پاکس کا آغاز افریقا سے بتایا جاتا ہے اور اس کی مختلف اقسام وسطی اور مغربی افریقا میں پائی جاتی ہیں۔ انسانوں میں اس کا پہلا تصدیق شدہ کیس 1970 میں ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں ایک بچے میں سامنے آیا تھا۔
منکی پاکس کی علامات کیا ہیں؟
ماہرین کے مطابق منکی پاکس کی علامات چیچک سے ملتی جلتی ہوسکتی ہیں، تاہم عام طور پر اس کی شدت چیچک کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔
متاثرہ شخص میں ابتدائی طور پر بخار، سر درد، جسم میں درد، کمزوری اور بعض صورتوں میں سانس لینے میں دشواری جیسی علامات ظاہر ہوسکتی ہیں، جس کے بعد جسم پر دانے یا چھالے نمودار ہوجاتے ہیں۔
یہ دانے جسم کے مختلف حصوں پر ظاہر ہوسکتے ہیں اور ان میں پیپ بھی بن سکتی ہے۔ مریض کو خارش، بے چینی اور جسمانی تکلیف کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔
کیا منکی پاکس جان لیوا ہوسکتا ہے؟
ماہرین کے مطابق زیادہ تر مریض صحت یاب ہوجاتے ہیں، تاہم بیماری کی شدت بڑھنے کی صورت میں یہ جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہے۔ بیماری کی شدت کا انحصار وائرس کی قسم اور مریض کی مجموعی صحت سمیت مختلف عوامل پر ہوتا ہے۔
منکی پاکس سے کیسے بچا جاسکتا ہے؟
منکی پاکس سے بچاؤ کے لیے متاثرہ شخص سے قریبی اور غیر ضروری میل جول سے گریز کرنا چاہیے۔ اگر کسی متاثرہ شخص کی دیکھ بھال ضروری ہو تو ماسک، دستانوں اور دیگر حفاظتی تدابیر کا استعمال کیا جائے۔
جنگلی یا مشتبہ بیمار جانوروں سے براہِ راست رابطے سے بھی گریز کرنا چاہیے اور ہاتھوں کی صفائی کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔
اگر کسی شخص میں منکی پاکس کی علامات ظاہر ہوں تو اسے دوسروں سے الگ رہنا چاہیے اور طبی ماہرین سے رابطہ کرنا چاہیے۔ متاثرہ شخص کے زیرِ استعمال کپڑے، تولیے اور دیگر اشیا کو بھی احتیاط سے صاف کیا جائے تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ کم کیا جاسکے۔
