نئی دہلی: ایئر انڈیا نے فوکٹ سے نئی دہلی جانے والی پرواز کے پائلٹ کو منشیات کے ٹیسٹ میں سائیکو ایکٹو (نفسیاتی اثر رکھنے والے) مادے کی موجودگی ثابت ہونے کے بعد ملازمت سے برطرف کردیا۔
ایئر انڈیا کی پرواز AI2379 نے 4 اگست کو فوکٹ سے نئی دہلی جاتے ہوئے اڑان کے دوران تقریباً 300 فٹ بلندی کھو دی تھی، جس کے نتیجے میں 24 مسافر زخمی ہوئے تھے۔ ایئر انڈیا نے اپنے بیان میں کہا کہ کمپنی حفاظتی ضوابط اور قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی کے معاملے میں زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ پائلٹ ان کمانڈ کے سائیکو ایکٹو مادے کے ٹیسٹ میں مثبت آنے کے بعد اس کی ملازمت فوری طور پر ختم کردی گئی۔
ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو (AAIB) کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ایئربس A320 طیارے میں 36 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کے دوران تقریباً بیک وقت تینوں ہائیڈرولک نظاموں میں خرابی پیدا ہوئی۔ اس کے نتیجے میں آٹو پائلٹ منقطع ہوا اور مختصر وقت کے لیے اسٹال وارننگ جاری ہوئی، جس کے بعد طیارے کی بلندی میں کمی واقع ہوئی۔رپورٹ کے مطابق طیارے میں مجموعی طور پر 145 افراد سوار تھے۔ واقعے کے بعد پائلٹ اور شریک پائلٹ کا ڈرگ ڈٹیکشن ٹیسٹ کیا گیا، جس میں کپتان کا ٹیسٹ مثبت جبکہ شریک پائلٹ کا ٹیسٹ منفی آیا۔تاہم ابتدائی رپورٹ میں یہ نہیں کہا گیا کہ پائلٹ کی جانب سے سائیکو ایکٹو مادے کا استعمال ہائیڈرولک نظام میں خرابی یا طیارے کی بلندی کم ہونے کی وجہ بنا۔
رپورٹ کے مطابق واقعے کے وقت شریک پائلٹ طیارہ اڑا رہا تھا اور صورتحال کو قابو میں لانے کی کوشش کی۔ بعد ازاں پائلٹ ان کمانڈ نے کنٹرول سنبھال لیا۔ اس دوران طیارے نے مقررہ 36 ہزار فٹ کی بلندی سے پہلے 372 فٹ بلندی حاصل کی اور پھر 292 فٹ نیچے آیا، تاہم کچھ ہی دیر بعد فلائٹ کنٹرول بحال ہوگئے اور طیارہ معمول کے مطابق پرواز کرنے لگا۔AAIB نے سائیکو ایکٹو مادے کے استعمال کی تصدیق کو سنگین معاملہ قرار دیتے ہوئے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (DGCA) سے پائلٹ کے خلاف ترجیحی بنیادوں پر مناسب کارروائی کی سفارش کی تھی۔ایئر انڈیا نے کہا ہے کہ وہ تحقیقات میں مکمل تعاون جاری رکھے گی اور تمام متعلقہ آپریشنل، مینٹیننس اور تکنیکی ریکارڈز تک رسائی فراہم کر رہی ہے۔ کمپنی نے مزید بتایا کہ واقعے کے بعد اس نے اپنے 100 فیصد پائلٹس کی رضاکارانہ ڈرگ ٹیسٹنگ بھی شروع کردی ہے تاکہ حفاظتی اقدامات کو مزید مضبوط بنایا جاسکے۔ایئر انڈیا کے مطابق مسافروں اور عملے کی حفاظت اس کی اولین ترجیح ہے اور جہاں بھی ضوابط کی خلاف ورزی ثابت ہوگی، وہاں مناسب کارروائی کی جائے گی۔
