شمالی وزیرستان میں گزشتہ روز پاکستانی فورسز کی کارروائی کے دوران 9 جنگجو ہلاک کیے گئے، جن میں ایک ایرانی شہری بھی شامل بتایا گیا ہے-
تفصیلات کے مطابق ایرانی شہری نے قریباً 16 سال کی عمر میں 2014 میں شام میں مسلح سرگرمیوں کا آغاز کیا اور القاعدہ سے وابستہ گروپ جبہۃ الفتح الشام کے ساتھ رہا، بعد ازاں تحریر الشام سے بھی وابستہ رہا،مذکورہ شخص نے شام میں ایک شامی خاتون سے شادی کی، جس سے اس کی 2 بیٹیاں ہیں شام سے نکلنے کے فیصلے کے بعد اہلیہ کے ساتھ سفر پر آمادہ نہ ہونے پر اس نے اسے طلاق دے دی اور اپنے سفر کو جاری رکھا۔
شام میں مذکورہ شخص کا نام جعفر جبکہ پاکستان میں محمد فاتح استعمال کیا جاتا تھا وہ قریباً 8 ماہ سے تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ تھا اور کچھ عرصہ بلوچستان کے علاقے مکران میں بھی موجود رہا بعد ازاں وہ شمالی وزیرستان یہ شخص شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی فورسز کی ایک کارروائی میں سفر کے دوران دیگر 8 ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگیا،محمد فاتح کی ماضی میں شام میں کالعدم تنظیم القاعدہ سے وابستگی اور بعد ازاں فتنہ الخوا رج میں شمولیت خطے میں شدت پسند تنظیموں کے باہمی روابط اور غیر ملکی عناصر کی موجودگی کو ظاہر کرتی ہے-
