امریکی ایئرلائن کی پرواز میں نسلی اور ہم جنس پرست افراد کے خلاف توہین آمیز جملے کسنے اور ہنگامہ آرائی کرنے والے 67 سالہ مسافر آرتھر لین لنڈین کو ایریزونا کی ریئل اسٹیٹ کمپنی نے ملازمت سے فارغ کردیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق آرتھر لین لنڈین نے جمعرات کی شب امریکن ایئرلائنز کی پرواز 618 میں مبینہ طور پر عملے اور دیگر مسافروں سے بدتمیزی کی، نسلی گالم گلوچ کی اور انتہائی نامناسب زبان استعمال کی۔ صورتحال اس قدر بگڑ گئی کہ مسافر کو قابو کرنے کے لیے دیگر افراد نے اسے ڈکٹ ٹیپ اور زِپ ٹائیز کی مدد سے نشست کے ساتھ باندھ دیا۔پرواز ڈلاس سے نیوآرک جارہی تھی تاہم مسافر کی ہنگامہ آرائی کے باعث اسے بالٹی مور کی جانب موڑنا پڑا۔ طیارے کے لینڈ کرتے ہی لنڈین کو حراست میں لے لیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق لنڈین ٹکسن میں قائم لانگ ریئلٹی سے منسلک ریئل اسٹیٹ ایجنٹ تھا اور اس کے لنکڈ اِن پروفائل پر اسے کمپنی کا نائب صدر بھی ظاہر کیا گیا تھا۔ واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد کمپنی نے فوری طور پر اس کے ساتھ وابستگی ختم کردی۔لانگ ریئلٹی نے فیس بک پر جاری بیان میں کہا کہ واقعے سے متعلق سامنے آنے والے ’’تشویشناک مجرمانہ الزامات‘‘ کے بعد لنڈین کو کمپنی سے الگ کردیا گیا ہے اور اب وہ کسی بھی حیثیت میں کمپنی کی نمائندگی کرنے کا مجاز نہیں۔کمپنی کے مطابق طیارے میں مبینہ طور پر ہونے والا رویہ اس پیشہ ورانہ معیار، دیانت داری، ہمدردی اور دوسروں کے احترام کے بالکل برعکس ہے جس کی کمپنی اپنے وابستہ افراد سے توقع کرتی ہے۔
دوسری جانب عدالتی ریکارڈ کے مطابق لنڈین پر ریاستی سطح پر دوسرے درجے کے حملے اور بدنظمی پھیلانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ایف بی آئی کے مطابق واقعے کے حقائق جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں اور مزید معلومات حاصل کرنے کے بعد میری لینڈ کے وفاقی استغاثہ کے دفتر سے مشاورت کی جائے گی کہ آیا لنڈین کے خلاف وفاقی سطح پر بھی مقدمہ درج کیا جائے یا نہیں۔
